بجلی کے بلوں میں ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے نگران وزیراعظم کی زیرِصدارت اجلاس ہوا جس میں بجلی کی قیمتوں اور زائد بلوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم انوار الحق نے بجلی نرخوں اور زائد بلوں پر نگراں وزیر توانائی سے مشاورت کی۔
اجلاس میں بجلی کے بلوں میں ممکنہ ریلیف دینے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے، متعلقہ اداروں کے افسران، ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔
توانائی ڈویژن کی جانب سے بجلی کے بلوں میں ممکنہ ریلیف سے متعلق مختلف آپشنز پیش کیے گئے جبکہ اجلاس میں بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں زائد بلوں کی ادائیگی سردی کے بلوں میں ایڈجسٹ کرنے کی تجویز ہے جبکہ اس کے ساتھ بجلی صارفین کو ون سیلب بینفٹ کی تجویز بھی ہے، عوام کو بجلی کے بلوں میں ریلیف سے متعلق حتمی فیصلہ کل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق بجلی کے بلوں میں فی الحال کمی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں، اس کے بجائے زیادہ قسطوں کی تجویز ہے۔
بجلی کے بل میں کون کون سے ٹیکس شامل ہیں؟
آئے روز بڑھتی مہنگائی کے علاوہ پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے بلوں میں شدید اضافہ ہے۔
بجلی کے بل کا تعین صارف کے استعمال شدہ یونٹس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے یعنی جتنے یونٹ استعمال کریں گے اتنا ہی بل آئے گا۔
بجلی کے بل کا ایک حصہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کو وجب الادا رقم ہوتی ہے جبکہ دوسرا حصہ براہ راست حکومتی محصولات ہیں جوصارف سے وصول کیے جاتے ہیں۔
علاوہ ازیں’فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ‘ بھی ہے جو بجلی پیدا کرنے کے ذرائع مثلاً کوئلہ، فرنس آئل یا گیس کی لاگت پرمنحصر ہوتی ہے اور اس کا تخمینہ ہرماہ لگائے جانے کے بعد رقم صارف سے وصول کی جاتی ہے۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے علاوہ گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے ’فنانسنگ کاسٹ سرچارج‘ کی مد میں فی یونٹ 43 پیسے صارفین وصول کیے جاتے ہیں۔



















