صدر مملکت نےکہا ہے کہ نااہلی اور بدانتظامی کے معاملات سے قواعد کے مطابق نمٹنا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیرِ صدارت نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے بورڈ آف گورنرز کا 23 واں اجلاس ہوا جس میں صدر مملکت نے سرکاری افسران کو معیاری تربیت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں بورڈ آف گورنرز کے 22ویں اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے مختلف انتظامی اور مالیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ نیشنل ڈویلپمنٹ انٹرن شپ پروگرام (پالیسی) کو اپنا لیا گیا ہے ، وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے تعاون سے انٹرنیز کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو حتمی شکل دی جائے گی۔
اجلاس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈین کی تقرری کا عمل تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری حکام کو مسائل کے حل اور جلد فیصلہ سازی جیسی صلاحیتوں سے لیس کیاجائے ، افسران کی کارکردگی میں بہتری کیلئے وسائل کے مؤثر انتظام کی تربیت دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کو عوام کی ضروریات پوری کرنے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے ، بیوروکریسی ملک کو صحت، تعلیم اور کمیونٹی سروسز سمیت مختلف شعبوں میں درپیش مسائل کے حل پر توجہ دے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ سرکاری ملازمین کو تحقیق اور معیاری تربیت فراہم کرنے کیلئے مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی قلیل مدتی تربیتی کورسز کی فراہمی اور تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر غور کرے، بیوروکریٹس کو جدید ترین مہارتوں سے لیس اور کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی میں شفافیت اور احتساب یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ نااہلی اور بدانتظامی کے معاملات سے قواعد کے مطابق نمٹنا چاہیے۔



















