ملک میں دن بدن جوڑوں کے درد کا مرض بڑھتا جارہا ہے جبکہ کورونا کے مریضوں میں بھی درد کی شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کی نامور رھیوماٹولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر صالحہ اسحاق کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران صحت یاب ہو جانے والے افراد میں جوڑوں اور پٹھوں کے درد کی شکایات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور کئی مریض چھ مہینے سے ایک سال تک شدید درد کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر صالحہ کا کہنا ہے کہ رھیوماٹولوجی نسبتاً ایک نئی بیماری ہے جس کے ماہرین کی تعداد نہایت کم ہے۔
اس کے علاوہ معروف طبی ماہر ڈاکٹر بابر سعید خان کا کہنا ہے کہ جوڑوں اور پٹھوں کے درد میں مبتلا افراد برسوں تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں کیونکہ اکثر ان کے امراض کی درست تشخیص نہیں ہو پاتی اور ایسے مریض برسوں دردکش ادویات استعمال کرنے کے باعث گردوں اور جگر کے امراض میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوڑوں اور پٹھوں کے امراض خاص طور پر آرتھرائٹس کے مرض کی ادویات بہت مہنگی ہیں، ایسے مریضوں کو چاہیے کہ وہ تربیت یافتہ ماہرین سے رابطہ کریں تاکہ جلد تشخیص کے ساتھ ساتھ ان کا جلد علاج شروع ہو سکے اور وہ اپنے تکالیف سے نجات پا سکیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















