ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے فوری بعد انتخابات کا انعقاد ہو۔
تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی گونج سنائی دے رہی ہے، الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، 7 اپریل کو سندھ کی آبادی کو گن لیا گیا تھا، کراچی کی آبادی کو ایک کروڑ تیس لاکھ بتایا جا رہا تھا، ایم کیو ایم پاکستان کا کارکن ثبوت و شواہد کے ساتھ کام کر رہی تھی، ہم کراچی کا مقدمہ لڑنے کے لیے احسن اقبال صاحب کے پاس بھی گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 73 لاکھ لوگوں کو گنے بغیر مردم شماری مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، سندھ کے سب سے بڑے شہر میں گٹر کے ڈھکن نہیں ہیں، ایک طرف خبریں چل رہی ہیں کہ کہ پڑوسی ممالک چاند پر چلا گیا اور دوسری جانب ایک اسکرین پر خبر ہے کہ بچہ گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر جعلی الیکشن کروائے گئے کیا ملک ٹھیک ہو گیا، ہمارا مطالبہ ہے نئی حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے، اسی جمہوری پراسس کی سب سے پہلی سیڑھی مقامی حکومتیں ہیں، 2019 میں بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئی تو تین سالوں تک انتخابات نہیں کروائے گئے، حلقہ بندیوں کا عمل شروع ہو گیا ہے، اس شہر کا پانی چوری کر کے ہمیں بیچا جا رہا ہے، ایس بی سی اے اور کے ڈی اے کا سسٹم بریک ہونا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ سیاسی حکومتوں نے اپنے سسٹم بنا رکھے ہیں، سندھ میں الیکشن لڑا نہیں جاتا الیکشن خریدا جاتا ہے، بلدیاتی انتخابات میں ڈاکو آرہے تھے بیلٹ باکس لیکر آپ سب نے دیکھا، پاکستان اب کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ملک چلانے والوں کو اس ملک کو بچانا ہے، پاکستان میں بجلی کا بحران پیدا ہو گیا ہے، دہشتگردی کے بعد سب سے زیادہ نقصان بجلی کی چوری کا نقصان ہے، بجلی کی جو چوری کر رہا ہے اسے نہیں پکڑا جا رہا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں

















