نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ہم سب ملکی معیشت کی ترقی کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، وزیر توانائی سید محمد علی، وزیر تجارت کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تمام کمیٹیوں کو ایکٹو کر دیا ای سی سی ایکنک کے اجلاس ہوئے اور اب میکرو اکنامک مینجمینٹ کیلئے اقدامات کرنے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ معیشت کو بحال کرنا ہے اس کیلئے کام شروع کر دیا ہے، بطور ٹیم تمام معاشی معاملات کو مل جل کر دیکھا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم سب ملکی معیشت کی ترقی کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں، معیشت کی بحالی کیلئے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے حوالے سے سائز کا اندازہ نہیں ہے، کرنسی اور اشیاء کی اسمگلنگ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، اسمگلنگ سے متعلق اقدامات کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
خصوصی سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے، مرتضیٰ سولنگی
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری کونسل کا ایک روز اجلاس آج ہوا، اجلاس کل بھی ہوگا کیونکہ یہ دو روزہ اجلاس تھا۔
مرتضی سولنگی نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ حکومتی اخراجات کو کم کرنے کیلئے بھی اقدامات ہونگے۔
وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مزید کہا کہ اجلاس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے جائزہ ہوا، خصوصی سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔
معیشت کھلے گی تو تجارت بھی بڑھے گی ، گوہر اعجاز
نگران وفاقی وزراء کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا کہ گزشتہ سال حکومت نے معیشت کو کنٹرول کرنے کی پالیسی اپنائی،2022 میں پاکستان کی ریکارڈ درآمدات اور برآمدات بھی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر سمیت دیگر صنعتوں کے اعداد و شمار نیچے آئے ، صنعتوں کو بحال کرنے کیلئے آج کے اجلاس میں جائزہ ہوا ہے۔
گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کم ہوئیں ہیں، معیشت کو کنٹرول کرنے کی بجائے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، معیشت کھلے گی تو تجارت بھی بڑھے گی اور مہنگائی بھی کم ہوگی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، اسمگلنگ کو ہر صورتحال میں روکا جائے گا۔
نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز کا منزید کہنا تھا کہ چینی کے وافر اسٹاک ملک میں موجود ہیں، ملک میں کسی چیز کا بحران نہیں ہے آئندہ کرشنگ سیزن تک چینی موجود ہے۔
انڈسٹریز چلانے کیلئے گیس کی دستیابی ضروری ہے، محمد علی
علاوہ ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نگراں وزیر توانائی محمد علی نے کہا کہ آج کے اجلاس میں میں بجلی کے ٹیرف کو کم کرنے کیلئے بات ہوئی، ڈسکوز کا معاملہ آج کے اجلاس میں زہر بحث آیا ہے، ڈسکوز کے بوورڈ کو غیر سیاسی بنانے کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔
نگراں وزیر توانائی نے کہا کہ سردیوں کے اندر گیس کی کمی ہوتی ہے، گیس سیکٹر میں ساڑھے تین ارب کا نقصان ہوتا ہے، گیس سیکٹر کیلئے خرابیوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صنعتوں کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا،انڈسٹریز چلانے کیلئے گیس کی دستیابی ضروری ہے، صنعتوں کو گیس فراہمی کیلئے ایل این جی پلانٹس لگانا ہونگے۔
نگراں وزیر توانائی محمد علی نے مزید کہا کہ گیس کمی فراہمی کے باعث صنعتوں کو بند نہیں ہونا چاہیے، وزرات توانائی نے ان تمام اقدامات پر کام شروع کر دیا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















