بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒکا 75واں یوم وفات آج نہایت عقیدت و احترام کیساتھ منایا جائیگا۔
بانی پاکستان کے یوم وفات کے موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے مزار قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی جائیگی۔
اس دن کی مناسبت سے سرگودھا سمیت ملک بھر میں سیاسی و سماجی جماعتوں کے زیر ِاہتمام تقاریب، سیمینارز، کانفرنسز اور پروگرامز کا انعقاد کیا جائیگا جبکہ تمام مساجد میں نماز فجر کے بعد قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کی جائیگی۔
قائد اعظم کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کے یوم وفات پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی پیدائش 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں ہوئی،قائد اعظم شعبہ کے اعتبار سے نامور وکیل اور سیاستدان تھے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں اپنے آبائی شہر سے کیا اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ 1896 میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس لوٹ آئے۔
محمد علی جناح پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور وطن واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم کا شمار برصغیر کے مایہ ناز قانون دانوں میں کیا جانے لگا تھا۔
برصغیر واپسی کے بعد قائداعظم نے سیاست میں باضابطہ طور پر حصہ لیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس کا حصہ بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ جماعت برصغیر کے تمام باسیوں کی نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔
قائداعظم نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی مگر امید کا دامن نہ چھوڑا اور کانگریس کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ کانگریس کی ہندو نواز پالیسیوں سے تنگ آکر بالآخر 1920 میں قائداعظم نے کانگریس کو خیرآباد کہہ دیا اور آخری سانس تک مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ سے وابستہ اختیار کر لی۔
اسی جماعت کی چھتری تلے ہی قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم اس پاک وطن کے پہلے گورنر جنرل بنے اور 11 ستمبر 1948 میں وفات تک اس عہدے پر تعینات رہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دِلایا پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہش مند تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ ہند 11 ستمبر 1948 کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















