نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ بجٹ میں الیکشن کے لئے رقم مختص ہے اور اس وقت حلقہ بندیوں کا کام چل رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی اور نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے نیب ترامیم کیس کے حوالے سے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ موصول ہونے پر وزارت قانون اور ہمارے قانونی ماہرین اس کا جائزہ لیں گے اور اس کی روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے مزید کہا کہ بجٹ میں الیکشن کے لئے رقم مختص ہے، اس وقت حلقہ بندیوں کا کام چل رہا ہے، ہماری کمٹمنٹ ہے کہ انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کی سکیورٹی اور مالی وسائل سمیت تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔
اس موقع پر نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری کے خلاف کریک ڈائون کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں، ایف آئی آرز بھی درج کی گئی ہیں، واجبات کی وصولی میں بہتری آئی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ یہ بجلی چوری پچھلے کئی سالوں سے ہو رہی تھی لیکن اسے پکڑا نہیں جا رہا تھا، 10 دن پہلے ہم نے اس کے خلاف مہم شروع کی اور یہ جاری رہے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاور ڈویژن میں خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، صوبوں کے تعاون سے ضلعی سطح پر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے بجلی چوروں کے خلاف کارروائی جاری ہے جبکہ وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹریز اور پولیس سربراہان کے ساتھ ملاقات میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بجلی چوری اور واجبات کی وصولی کیلئے مہم کو تیز کیا جائے گا۔
محمد علی کا کہنا تھا کہ چوری پکڑنے کے ساتھ ساتھ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی گورننس اور مینجمنٹ کو بھی بہتر بنانا ہو گا، ڈسکوز کے بورڈز اور کچھ ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹو افسران کو بھی تبدیل کیا جائے گا اور اس کا طویل مدتی حل نکالا جائے گا۔
نگراں وفاقی وزیر توانائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں علم ہے کہ بجلی مہنگی ہے، ہماری کوشش ہے کہ صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالیں، توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضہ بہت بڑا مسئلہ ہے، بجلی چوری ہو رہی تھی، واجبات کی وصولی کم تھی، ڈسکوز کی کارکردگی بھی ایک مسئلہ رہا ہے۔
محمد علی نے کہا کہ بجلی کے شعبہ کو گردشی قرضہ 2500 ارب روپے اور گیس کے شعبہ کا 2900 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، یہ صورتحال پچھلے 10، 15 سال میں پیدا ہوئی ہے جسے حل نہیں کیا گیا، توانائی کے شعبہ کا 2500 ارب روپے کا مجموعی گردشی قرضہ ہے جس پر ایک ہزار ارب روپے ہم سالانہ سود ادا کرتے ہیں، اس مسئلہ کا بھی جلد حل نکالا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ملک میں تیل و گیس کی پیداوار 10 سال میں کم ہوئی ہے، 2013-14ء کے مقابلہ میں آج ہماری پیداوار ساڑھے تین ارب ڈالر کم ہے، ہم اس حوالے سے پالیسیوں کو تبدیل کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کے حکام کو بھی بلایا گیا ہے، ان کے ساتھ بھی مشاورت کرکے معاملات کو بہتر بنائیں گے، موسم سرما کیلئے لوڈ مینجمنٹ پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ صارفین پر کم سے کم بوجھ پڑے۔
محمد علی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اوگرا کرتی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کی قیمت کو مدنظر رکھ کر رکھی جاتی ہیں، ماضی میں تیل و گیس کی تلاش پر توجہ نہیں دی گئی،اگر اس پر توجہ دی جاتی تو آج ہمارے پاس وافر تیل ہوتا، ملکی ضرورت کا 70 فیصد پٹرول درآمد کرتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث بجلی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، نگراں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کئے ہیں، بجلی چوری کے خلاف اقدامات کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔
نگراں وفاقی وزیر توانائی محمد علی نے مزید کہا کہ ہم برآمد کنندگان اور صنعتوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ صنعتوں کا پہیہ چلے گا تو ملک ترقی کرے گا، امیر طبقہ سستی گیس حاصل کرتا ہے جبکہ غریب طبقہ سلنڈر کے ذریعے مہنگی گیس حاصل کرتا ہے ، غریب طبقہ پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا لیکن امیر و غریب کو گیس کی فراہمی میں فرق اور ناانصافی کو ختم کرنا ہوگا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















