امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت عوام کے ساتھ ظلم کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قومی توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں بدلتی ہیں لیکن کچھ لوگ اپنی پوسٹوں سے نہیں اترتے، ان معاہدوں کی کوئی آڈٹ رپورٹ بھی موجود نہیں، لوگوں کی پوری عمر توانائی کے شعبہ میں گزر گئی وہ بھی سمجھ نہیں پاتے کہ آئی پی پیز کو کن شرائط پر سب کچھ دیا گیا، کیوں ان معاہدوں کو ایکسٹینشن دی گئی، جب ملک میں کوئلہ موجود ہے تو باہر سے سونے کی قیمت پر کوئلہ کیوں خریدا گیا ؟ باہر سے کوئلہ منگوا کر ٹرین اور کنٹینرز کے زریعے کراچی سے ساہیوال پہنچایا جاتا ہے، اربوں روپے اضافی ٹرانسپورٹیشن پر خرچ ہوتے ہیں، صرف سیاسی فائدے کی خاطر کوئلے کا پلانٹ ساہیوال میں لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ہم پر حملہ کرنے سے زیادہ خطرناک آئی پی پیز کے معاہدے ہیں، ونڈ انرجی پر بھی نہیں جارہے، حکومت آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے پر نظر ثانی کرے، جنہوں نے یہ معاہدے کیے وہ قومی مجرم ہیں، خاموش رہنا جرم ہے، اب عدالتوں اور عوام کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سفیر نے مجھے کہا ہم آپ کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، ہمیں خوش خبری سنائی گئی کہ روس سے سستہ تیل خریدا ہے، سمجھ نہیں آرہی وہ سستا تیل کہاں گیا ؟ حکومت عوام کو کچھ تو ریلیف دے۔
سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم سے کہا گیا بجلی کے بلوں میں ریلیف دیں، وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اس متعلق آئی ایم ایف سے اجازت لینے کی کوشش کریں گے، کیا ہم غلام ہیں؟؟
انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی چوری ختم کرنے کی کوشش کرے، ایک عام پاکستانی 5 بجلی چوروں کی قیمت ادا کر رہا ہے، 220 ارب روپے کی بجلی مفت خورے استعمال کر رہے ہیں، مفت خوروں میں حکومت ، صدر ، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ ، فوجی افسر اور بیوروکریسی شامل ہیں، مفت خوروں کا بوجھ عوام اٹھا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 45 فیصد ٹیکس عوام کو بلوں میں ادا کرنے پڑتے ہیں، حکومت عوام کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، 26 روپے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، 45 فیصد گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، غریب آدمی کہاں جائے؟؟ ہم دلیل کے ساتھ حکومت سے بات کریں گے، ہم حقائق حکمرانوں کے سامنے رکھیں گے، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ4 کھرب 30 ارب روپے کا پیسہ ایسا ہو جو لوگوں نے قرض معاف کروایا ہے، یہ خطیر رقم بڑے بڑے سیاست دانوں اور افسران نے لی، یہ کیس بھی سپریم کورٹ میں ہے، آئی پی پیز کے معاہدوں پر جلد از جلد نظر ثانی کی جائے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

















