پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی ميں بچوں کے اغوا اور پراسرار لاپتہ ہونے کے واقعات ميں خطرناک اضافہ ہورہا ہے۔ مذید ذیل میں ایک رپورٹ پڑھیے۔
تفصیلات کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی میں رواں سال کے 9 ماہ کے دوران 900 بچے لاپتہ ہوئے، لاپتہ بچوں میں 640 سے زائد بچوں کو ریکورکیا گیا۔
250 سے زائد بچوں اور بچیوں کے والدین اب بھی اپنے جگر گوشوں کو تلاش کررہے ہیں۔ لاپتہ بچوں میں 200 بچے اور 50 سے زائد بچیاں شامل ہیں۔ گزشتہ ماہ اگست میں سب سے زیادہ 155 بچے اغوا اور لاپتہ ہوئے۔
رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق شہر قائد ميں ضلع ایسٹ سے بچوں کے لاپتہ ہونے کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2023 کے پہلے ماہ جنوري ميں 98 بچوں کي گمشدگي کي رپورٹ درج ہوئي۔
فروري ميں 112، مارچ میں 85 بچے گم ہوئے۔ اپريل میں 48 اورمئي میں 91 کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جون میں 132 اور جولائي میں 119 لاپتہ ہوئے، اگست میں 155 اور ستمبر میں 60 سے زائد بچوں کے اغواء اور لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
زيادہ تر بچوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات گلشن اقبال ، بلديہ ٹاؤن ، اورنگي ٹاون، محمود آباد، نمائش، ماڑي پور، کورنگي، گلستان جوہر کے مختلف علاقوں ميں رونما ہوئے۔
رواں سال ميں ڈسٹرکٹ سينٹرل سے 116 اور ايسٹ سے 168 کے لاپتہ ہونے کے واقعات پیش آئے۔ ڈسٹرکٹ کورنگي سے 122 اور ويسٹ سے 140 بچے اور بچیاں گم ہوئیں۔ ڈسٹرکٹ ساؤتھ سے 49 اور مليرسے 146 بچوں کي گمشدگي کي رپورٹ درج کرائي گئي۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔



















