نگراں وزیر اعظم نےکہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور چین کی دشمنی میں کسی بھی کیمپ کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان بڑی طاقتوں کے مقابلے میں فریقین کا انتخاب کیے بغیر اپنے مفادات پر توجہ دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ پر غیرجانبدار ہے اور چین کو اپنا سدابہار دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔
نگراں وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ مغرب چین کو محدود کرنے کی کوششوں میں جنون میں مبتلا ہے، پاکستان ایک ایسی راہ پر گامزن ہے جس کا انتخاب مغرب، روس اور چین کے درمیان مسابقت سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی دشمنی میں کسی بھی کیمپ کاحصہ بننے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔سوویت یونین کے خلاف اور 9/11 کے بعد دوبارہ مغرب کا ساتھ دے کر پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی۔
یوکرین کے بارے میں پاکستان کے ”غیر جانبدار“ مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے نگراں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بحران چیلنجز پیدا کر رہا ہے اور ساتھ ہی یہ خطے میں مواقع بھی پیدا کر رہا ہے اور ہم اسے دونوں طریقوں سے دیکھ رہے ہیں۔
انوار الحق نے پاکستان کی جانب سے یوکرین میں جنگی سازوسامان منتقل کرنے کے حوالے سے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسی بھی قسم کی فروخت نہیں کی جو براہ راست یوکرین یاحتیٰ کہ کسی تیسرے فریق کے ذریعے بھی کسی قسم کا لین دین ہو۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کے حوالے سے نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے مبینہ زیادتیوں کی تردید کی اور کہا کہ گرفتاریاں غیر قانونی کارروائیوں پر کی جا رہی ہیں، کوئی ایسا شخص جو آتشزنی یا توڑ پھوڑ میں ملوث ہے، یہ اس قسم کا طرز عمل نہیں ہے جسے کسی بھی لبرل جمہوریت کے ذریعہ فروغ دیا جاتا ہے یا اس کی تائید ہوتی ہے، تو پھر پاکستان سے یہ توقع کیوں کی جا رہی ہے کہ ہم اس طرح کے رویے کو معاف کریں؟
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















