مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ ہر بچے کی تعلیم ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم پوری ایمانداری سے پورا کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی کی پیرا کی چیئر پرسن ڈاکٹر سیدہ ضیاء بتول سے ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں مدد علی سندھی نے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگیولیٹری اتھارٹی (پیرا) کو حکم دیا ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کی سالانہ رجسٹریشن کے لیے 10 فیصد نیڈ بیسڈ اسکالرشپس لازمی بنائے جس پر پیرا کی چیئر پرسن نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ اس آرڈر پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے، اب ہر سال پیرا سے رجسٹریشن کروانے کے لیے پرائیویٹ اسکولز پر لازم ہوگا کہ وہ دس فیصد طالب علموں کو نیڈ بیسڈ سکالرشپس دیں۔
مدد علی سندھی نے کہا کہ میں بنیادی طور پر قلم کار ہوں ، مجھے معلوم ہے کہ قوم کے مسائل کیا ہیں، میں نے اپنی وزارت سنبھالنے کے بعد اسلام آباد میں ایک پرائمری سکول کا دورہ کیا تو وہاں بہت سے مسائل تھے اور اسکول میں واش روم سمیت دیگر سہولیات کا فقدان تھا جسے دیکھ کر دکھ ہوا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 28 سے 30 ملین بچے ابھی بھی اسکولوں سے باہر ہیں،چائلڈ لیبر بچوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، نگران حکومت مختصر عرصے کے لئے آئی ہے،کوشش کریں گے کہ تعلیم کے شعبے کے لئے ایسے اقدامات کریں جو قابل تقلید ہوں۔
وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی نے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہر طبقہ کو ساتھ لے کر چلیں، ہر بچے کی تعلیم ہماری ذمہ داری ہے جسے ہم پوری ایمانداری سے پورا کریں گے۔اسلام آباد میں 1400 پرائیویٹ اسکولز ہیں جو اس پر عملدرآمد کریں گے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















