فرخ حبیب نے بھی پاکستان تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے اہم رہنما فرخ حبیب نے بھی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا اور کہا ہے کہ وہ آج سے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔
بد قسمتی سے چیئرمین پی ٹی آئی تشدد کی سوچ دیتے رہے، فرخ حبیب
بول نیوز سے براہ راست: https://t.co/zszohYkvNF #BOLNews #FarrukhHabib pic.twitter.com/CIb2oQIMlu— BOL Network (@BOLNETWORK) October 16, 2023
فرخ حبیب نے کہا کہ9 مئی کو افسوسناک واقعہ پیش کیا ، ذہن میں تھا کہ جو سیاست ہم کررہے ہیں وہ ہمارے لئے درست نہیں، 9 مئی کے افسوسناک واقعات کے بعد پانچ ماہ سے ہم اپنے گھروں سے دور تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ غلط تھا، میں تحریک انصاف چھوڑ رہا ہوں، میری جہانگیر ترین سے ملاقات ہوئی ہے، آج کی اس پریس کانفرنس کے ذریعے میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کررہا ہوں۔
فرخ حبیب کا استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان
بول نیوز سے براہ راست: https://t.co/zszohYkvNF #BOLNews #FarrukhHabib pic.twitter.com/MFVry4zZyd— BOL Network (@BOLNETWORK) October 16, 2023
ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو ساڑھے تین سال حکومت کام موقع ملا جس کے بعد آپ کو آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا، پارٹی چئیرمین نے جمہوری راہ کی بجائے یوتھ کو پیٹرول بم چلانے کی طرف لگا دیا گیا جبکہ آپ نے پرامن کے بجائے پرتشدد مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔
فرخ حبیب کا یہ بھی کہنا تھا کہ 9 اپریل کو عدم اعتماد کا ووٹ آئینی انداز میں ہوا ، عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد ہمیں پارٹی چئیرمین نے سکون سے نہیں بیٹھنے دیا ، ہم ملک کو تشدد کی راہ پر لے گئے تھے جبکہ ہم نے قائد اعظم کا پاکستان بنانے کی جدوجہد کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چئیرمین پی ٹی آئی کا کام تدبر دکھانا تھا، لوگ ان کیلئے لڑے لیکن خود انہوں نے گرفتاری نہیں دی، حالات کے تسلسل اور جذبات کی وجہ سے ہم بہت آگے نکل گئے تھے، نوجوانوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا کہ ادارے ہمارے خلاف ہیں جبکہ معصوم لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا گیا۔
فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کا کام جمہوری سوچ دینا ہوتا ہے نہ کہ تشدد کی سوچ، میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ایسی تشدد کی سیاست کیلئے جوائن نہیں کیا جبکہ سائفر کے معاملے پر امریکہ کے سفارت کاروں کو ڈیمارش کرنا تھا، سائفر کو اپنے سیاسی بیانیہ لیے استعمال کیا گیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہبد قسمتی سے چیئرمین پی ٹی آئی تشدد کی سوچ دیتے رہے، ملک کی معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف کا بھی اندازہ تھا، کمزور ملک ہونے کے باوجود امریکہ اور آئی ایم ایف کے معاملے پر تدبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔
بد قسمتی سے چیئرمین پی ٹی آئی تشدد کی سوچ دیتے رہے، فرخ حبیب
بول نیوز سے براہ راست: https://t.co/zszohYkvNF #BOLNews #FarrukhHabib pic.twitter.com/CIb2oQIMlu— BOL Network (@BOLNETWORK) October 16, 2023
فرخ حبیب نے کہا کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی توشہ خانہ سے تحفے لیے ہوئے ہیں ، میں بھی توشہ خانے کے معاملے پر ٹویٹ کرتا تھا کیونکہ کابینہ اجلاس میں ہمیں کہا تھا کہ توشہ خانے معاملے کا دفاع کریں جو اخلاقی طور پر درست ہی نہیں تھا اور جب میں نے کابینہ سیکرٹری سے پوچھا تو اس نے بھی مجھے چپ رہنے کا کہا۔
فرخ حبیب نے یہ بھی کہا کہ القادر ٹرسٹ بنایا اس پر بھی شوکت خانم کی طرح انگلی نہیں اٹھنی چاہیے تھی اور بند لفافے میں القادر کے معاملے پر سمجھوتہ کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو ان تمام معاملات پر جواب دینا پڑے گا۔
فرخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت میں پی ٹی آئی بھی تانگہ پارٹی تھی، میں پی ٹی آئی کے لوگوں کو پیغام دیتا ہوں کے غلط چکر سے باہر نکل آئیں جبکہ ہم نے جہانگیر ترین کیساتھ کام کیا، جہانگیر ترین زبردست صلاحتیوں کے مالک ہیں، میں نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے، استحکام پاکستان پارٹی بھی آگے بڑھے گی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















