ممبئی ہائیکورٹ نے پاکستانی فنکاروں کے بھارت ( بالی وڈ) میں کام کرنے پر پابندی کی درخواست مسترد کردی ہے۔
بھارت کی ممبئی ہائیکورٹ میں بھارتی فنکار فیض انور قریشی نے درخواست دائر کی تھی، جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں کام نہ کرنے دیا جائے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جسٹس سنیل بی شکرے اور جسٹس فردوش پی پونی والا کی ڈویژن بنچ نے امن اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بھارتی شہری کی درخواست مسترد کردی ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حب الوطنی ملک کے لیے ہے، اس کا مطلب دوسروں سے دشمنی نہیں۔
View this post on Instagram
ممبئی ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب تک کسی کا دل اچھا نہ ہو، وہ اچھا محب وطن نہیں بن سکتا، دل کا اچھا شخص ہمیشہ ملک میں اور سرحد پار سے امن اور ہم آہنگی کے فروغ کی سرگرمیوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ممبئی ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ پاکستانی فنکاروں پر پابندی کی درخواست ثقافتی ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینے سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے برابر ہے، جس کا کوئی قانونی جواز نہیں۔
واضح رہےکہ سال 2019 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی تعلقات خراب ہونے کے باعث پاکستانی فنکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔
اس پابندی کے باعث پاکستانی سپراسٹار ماہرہ خان، فواد خان، علی ظفر ، جاوید شیخ، صبا قمر، عاطف اسلم ، راحت فتح علی خان سمیت دیگر فنکاروں نے بھارت میں کام کرنا چھوڑدیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں















