Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، نگران وزیر توانائی

اسلام آباد: نگران وزیر توانائی محمد علی نے کہا ہے کہ 57 فیصد گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔

نگران وزیر توانائی محمد علی نے نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ بہت بڑا فیصلہ تھا، قیمتوں سے متعلق فیصلہ آسان نہیں مشکل تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں سے گیس کی مقامی پیداوار کم ہو رہی ہے، آج ہم ایک ہزار ارب روپے سے کم کی گیس نکال رہے ہیں، چونکہ گیس کی مقامی پیداوار کم آر ایل این کی درآمد کرنی پڑتی ہے، مقامی سطح پر ضرورت پوری کرنے کیلئے 210 ارب ادا کرنے پڑتے ہیں، رواں مالی سال بھی قیمتیں نہ بڑھاتے تو 4 سو ارب کا نقصان ہوتا ہے، گزشتہ ادوار میں قیمتیں بڑھائی جاتیں تو آج اتنا اضافہ نہ ہوتا۔

محمد علی نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں نقصان آج کی تاریخ میں 21 سو ارب تک پہنچ چکا ہے، قیمتیں نہ بڑھاتے تو اس کے نتائج بہت دوررس ہوتے، رواں گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گردشی قرض نہیں بڑھے گا، آج کی تاریخ میں گیس سیکٹر کا گردشی قرض بڑھنا رک گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ملک میں گزشتہ دس سالوں میں دس بڑی کمپنیاں ملک چھوڑ کر گئیں، جب ملک میں اپنے ذخائر نہیں تو کیسے گیس فراہمی کی جا سکتی ہے۔ جنوری 2022 میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تھی اور مہنگائی کی شرح 27 فیصد تھی، رواں سال اب مہنگائی کی شرح میں کمی کیلئے بہتری آئی ہے۔

نگران وزیر توانائی نے کہا کہ 57 فیصد گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، 57 فیصد شہریوں کیلئے فکس چارج 10 روپے سے بڑھا کر 400 کیا ہے، باقی تمام صارفین کیلئے گیس استعمال پر قیمتیں ادا کرنا ہونگی۔

محمد علی نے کہا کہ تندوروں کیلئے گیسں کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، روٹی کی قیمت نہیں بڑھنی چاہیے تندور کیلئے پرانا ریٹ ہی ہے، شمال اور جنوب میں صنعتوں کیلئے گیس کے نرخ ایک ہی ہونگے، سی این جی کمرشل کیلئے گیس کے ریٹ بھی ایک ہی کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی این جی کیلئے گیس کی قیمت بڑھا کر 3600 کی ہے، گاؤں میں ایک چولہا ہیٹر جلانے والے کو ایک ایل پی جی سیلنڈر پڑتا ہے، ہم نے شہروں میں رہنے والوں کیلئے قیمت ایل پی جی کے ریٹ کے برابر کر دی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پروٹیکٹڈ صارفین ملک میں 57 فیصد ہیں اضافے کے بعد بھی 33 فیصد پر قیمت ملے گی، پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے گیس کا استعمال 31 فیصد ہے جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین ملک میں 36 فیصد ہیں، نان پروٹیکٹڈ صارفین ملک میں 41 فیصد گیس استعمال کرتے ہیں۔

نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ امیر طبقے کیلئے گیسں کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، آنے والے وقتوں میں گیس سیکٹر میں پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، نقصان رکے گا تو اداروں میں جو خسارے ہیں وہ کم ہونگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سمری پیش کرنے والے کے حوالے سے کوئی مس مینجمنٹ نہیں ہوئی، کسی ایک وزارت کی مرضی سے چیزیں طے نہیں ہوتی، کوئی بھی سمری آتی ہے تو اس پر مشاورت ہوتی ہے اور ایک متفقہ فیصلہ ہوتا ہے، سمری ای سی سی میں اور پھر کابینہ میں گئی، انڈسٹری کیلئے بھی اضافے سے متعلق ان سے مشاورت کی گئی، نگران سیٹ اپ کے پاس اتنا وقت نہیں اس پر منتخب حکومت فیصلہ کرے گی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں