نگران وفاقی وزیر برائے تعلیم مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے تعلیم کے معیار کو ترجیح دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت مدد علی سندھی سے سعودی عرب کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں مدد علی سندھی اور ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے سیرت النبی ﷺ پر تحقیق کرنے کے لئے یونیورسٹی کی سطح پر اساتذہ کے تبادلے شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں مدد علی سندھی نے کہا کہ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی ایک تاریخی اور پر وقار ادارہ ہے، وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے تعلیم کے معیار، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی اور سیرت النبی ﷺ پر تحقیق کو ترجیح دی ہے۔
نگران وفاقی وزیر برائے تعلیم نے آئی آئی یو آئی میں سسٹمز کی اپ گریڈیشن کی تعریف کی جبکہ انہوں نے سیرت النبی ﷺ پر تحقیق کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مدد علی سندھی نے کہا کہ آئی آئی یو آئی میں تعلیم کا معیار ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کی قیادت میں مسلسل بلند ہو رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کے ایس اے اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان شریعت، عدلیہ کے کردار، اسلامی قانون اور نبی اکرم ﷺ کی سیاسی تعلیمات کے حوالے سے تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھانے اور وسیع کرنے کے لئے فوری کام ہونا چاہئے۔
نگران وفاقی وزیر برائے تعلیم مدد علی سندھی نے مدارس کے مذہبی رہنماؤں کو تربیت دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمیں اپنے مذہبی رہنماؤں کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور مملکت سعودی عرب پاکستان میں مدارس کے علماء کو تربیت دے کر مدد کر سکتی ہے۔
اس موقع پر ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ ہم نے پاکستانی طلباء کو 700 وظائف کی پیشکش کی ہے اور ہم اس تعداد کو پاکستان کی وزارت تعلیم کی خواہش کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ کے ایس اے میں عربی زبان کے بہترین ادارے ہیں جو فاصلاتی تعلیم یا اساتذہ کے تبادلے کے ذریعے اپنے پروگراموں کو پاکستان کی یونیورسٹیوں تک بڑھا سکتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















