اسموگ کنٹرول کرنے کیلئے لاہور میں دھواں چھوڑنے والی 5137 گاڑیاں کو تھانے میں بند جبکہ 12765 گاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کر دیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق سی ٹی او لاہور مستنصر فیروز کے حکم پر اسموکی وہیکلز کے خلاف رات گئے بڑا کریک ڈاؤن ہوا جس کے دوران 5137 گاڑیاں شہر کے مختلف تھانوں میں بند کی گئیں جبکہ 12765 اسموکی وہیکلز کو 2000 کے چالان ٹکٹس جاری کیے گئے۔
لاہور ٹریفک پولیس محکمہ ماحولیات اور دیگر الائیڈ محکموں کے ساتھ مل کر کارروائی کر کے بغیر ترپال، بغیر ڈھانپے ڈمپر، ٹرالیوں اور دیگر لوڈر گاڑیوں کو تھانے بند کر رہی ہے۔
سی ٹی او لاہور مستنصر فیروز کا کہنا ہے کہ رات کے وقت بھی شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں، وقت سے پہلے شہر میں آنے والی بڑی اور لوڈر گاڑیوں کو خصوصی طور پر چیک کیا جا رہا ہے، ریت و مٹی والی بغیر ترپال اور ڈھانپے بغیر گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے، ریت مٹی او دھوئیں والی گاڑیاں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، مقررہ اوقات سے پہلے ہیوی ٹریفک کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔
مستنصر فیروز نے کہا کہ ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن کو صوئے آصل، ڈی ایس پی صدر کو ٹھوکرنیاز بیگ پر کارروائی کر رہے ہیں، ڈی ایس پی شاہدرہ راوی پل اور ڈی ایس پی مغلپورہ کو ہربنس پورہ اور مناواں میں کارروائی کر رہے ہیں، ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ کے خاتمے کیلئے موثر کارروائیاں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ کئی روز سے فضائی آلودگی کی وجہ سے لاہور کے شہریوں کو گلے کی خرابی، نزلہ زکام اور کھانسی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے انتظامیہ کو صوبے بھر میں اسموگ کے تدارک کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نازیہ جبین نے انتظامیہ کو خط لکھا تھا۔
پی ڈی ایم اے نے خط میں لکھا تھا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف کمشنر کے اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ہر اس اقدام کو روکیں جو اسموگ کا باعث ہے، فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے پر مکمل پابندی عائد ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام کارخانے جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں کارروائی ہوگی، ضلعی انتظامیہ زگ زیگ ٹیکنالوجی سے چلنے والے بھٹوں کے علاوہ باقیوں پر کڑی نظر رکھے، حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، عوام کے ساتھ رابطہ استوار کریں، جہاں خلاف ورزی ہو اس کی ویڈیو منگوائیں، یونیورسٹیز کالجز اور اسکولوں میں اسموگ تدارک کیلئے سیمینارز بھی منعقد کروائے جائیں۔
بعدازاں نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیریں کی ملاقات ہوئی جس میں اسموگ کے خاتمے کیلئے باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا تھا کہ اسموگ سے نمٹنے کے لئے چین سے ٹیکنیکل معاونت اور جدید آلات کے حصول کے لئے کوشاں ہیں، اسموگ کے خاتمے کے لئے طویل المدتی پالیسی اختیار کررہے ہیں، لاہور میں اسموگ کا بڑی وجہ انڈیا میں فصلوں کی باقیات کو بڑے پیمانے پر جلانا ہے، دورہ چین کی کامیابی کے لئے چینی قونصل جنرل اور قونصلیٹ کے تعاون کے مشکور ہیں، چین کی طرز پر پنجاب میں بھی ٹورسٹ پولیس قائم کی جارہی ہے، ایگریکلچر ریسرچ، واٹر مینجمنٹ اور دیگرامور میں چین کی مہارت میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیریں کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب اسموگ کے خاتمے کے لئے قابل قدر اقدامات کررہی ہے، پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں میں زگ زیگ ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت دیگر اقدامات قابل ستائش ہیں، لاہور میں ڈپلومیٹک انکلیو قائم کرنے پر حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















