نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے ایکشن پر سرکاری اسکول کو فرنیچر مل گیا۔
تفصیلات کے مطابق محسن نقوی کے دورے کے بعد ماڈل ٹاؤن میں ٹاٹ والے سرکاری اسکول میں فرنیچر، صفائی میں بہتری، پینٹ، لائٹس اور پنکھے، کھڑکیوں کے شیشے اور جالیاں لگ گئیں۔
وزیراعلیٰ محسن نقوی نے 5 روز بعد گورنمنٹ جونیئر ماڈل ہائی اسکول کا دو بار دورہ کیا تھا، گزشتہ دورے کے دوران اسکول کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا تھا جس دوران بچوں نے اسکول کی حالت بہتر بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا تھا۔
محسن نقوی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہاب ریاض بھی آپ بچوں کے ساتھ آکر کرکٹ کھیلیں گے، جلد اسکول میں کینٹین بھی کھول دی جائے گی، جدید دور میں کمپیوٹر کے بغیر تعلیم کا حصول ممکن نہیں، بچوں کے لئے جدید آئی ٹی لیب کی ضرورت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
وزیراعلیٰ محسن نقوی نے 2009 کی بنی آئی ٹی لیب کے پرانے کمپیوٹرز کو تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ آئی ٹی لیب کے لئے فوری طور پر جدید کمپیوٹر مہیا کئے جائیں، لیب کے لئے 3 کمرے مختص کیے جائیں اور کمپیوٹرز کی تعداد 50 تک بڑھائی جائے۔
سیکرٹری تعمیرات ومواصلات، سیکرٹری سکولز ایجوکیشن، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ موجود تھے۔
دوسری جانب نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ آفس میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور ڈویژن، گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے9نومبر کوسرکاری چھٹی ہے، جمعہ کو بھی تعطیل کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہفتہ، اتواربھی چھٹی ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی اور ہیلتھ ایمرجنسی کے دوران تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی دفاتر، سینما، پارکس اورریسٹورنٹ بند رہیں گے جبکہ مارکیٹیں ہفتے کو بند رکھی جائیں گی۔
محسن نقوی نے کہا کہ شادی ہال، بیکریاں،فارمیسی، پبلک ٹرانسپورٹ اور کنسٹرکشن بند نہیں ہوگی۔فیکٹریاں بند نہیں کررہے تاکہ مزدور کا چولہا جلتا رہے، لاہور کی زمین کو ماحولیاتی ریسٹ کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سموگ کسی کے لئے بھی اچھی چیز نہیں، بچاؤ اور سدباب ضروری ہے، اس کی وجہ سے بچوں اور بزرگوں کو سانس اور آنکھوں کے امراض لاحق ہو رہے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے ماحولیات / سموگ میں ماہرین ماحولیات اور صحت کی سفارشات کی روزشنی میں فیصلے کیے گئے ہیں،سموگ سے متعلق اجلاس میں 10نومبر کو چھٹی کا فیصلہ کیا گیا ہے،ہفتے کے دن مارکیٹیں بند رہیں گئی، جمعہ کو مارکیٹیں بند کرنے کے بارے میں تاجروں سے مشاورت کی جائے گی، 4دن سرگرمیاں معطل کرنے کے فیصلوں کا مقصد سموگ کے لیول کو کم کرنا ہے۔
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میری اپیل ہے کہ بچے اور بزرگ ماسک ضرور پہنیں۔چھٹی کا فیصلہ عارضی ہے صرف اسی ہفتے کیلئے نافذ العمل ہوگا، ماحولیاتی ایمرجنسی کے تحت ناگزیر فیصلے کیے جار ہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انڈیا میں پاکستان سے 4گنا زیادہ فصلوں کی باقیات جلائی جاتی ہیں، جس سے سموگ بڑھتی ہے، سرحد پار فصلوں کی باقیات جلانے کا براہ راست اثر ہم پر پڑ رہا ہے، بھارت کے شہر دہلی میں بھی چھٹی اور دیگر فیصلے کئے گئے تو سموگ کے صورتحال میں بہتری آئی۔
اس موقع پر صوبائی وزراء، عامر میر، بلال افضل، ڈاکٹر جاوید اکرم، منصور قادر، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سی سی پی او، اور کمشنر لاہور بھی موجود تھے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















