Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ن لیگ کی منشور کمیٹی میں توسیع؛ نوٹیفکیشن جاری

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی منشور کمیٹی میں توسیع کر دی گئی ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری احسن اقبال کی جانب سے جارہ کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے سے اعلان شدہ 33 رکنی کمیٹی میں مزید 10 اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ نئے شامل ہونے والے اراکین میں سید طارق فاطمی، سردار اویس خان لغاری، خواجہ سلمان رفیق، ملک علی احمد، رانا عاطف روف شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مذکر اعجاز، شیخ فیاض الدین، عبد الرحمن کانجو، چوہدری نورالحسن تنویر اور عدنان فرید بھی منشور کمیٹی میں شامل ہیں، تاہم 43 رکنی منشور کمیٹی کی سربراہی سینیٹر عرفان صدیقی کر رہے ہیں۔

7 نومبر 2023 کو پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی منظوری سے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے منشور کمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ منشور کمیٹی میں چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق منشور کمیٹی کے چیئرمن سینیٹر عرفان صدیقی کو بنایا گیا جبکہ احسن اقبال، پرویز رشید، سعد رفیق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور خرم دستگیر کمیٹی کے رکن مقرر کیے گئے۔

اس کے علاوہ رانا احسان افضل، راؤ اجمل، ریاض الحق، سینیٹر مصدق ملک، بیرسٹر ظفر اللہ کمیٹی ارکان میں شامل ہیں جبکہ  ڈاکٹر طارق فضل، پیر صابر شاہ، اختیار ولی، کھیل داس کوہستانی، بشیر میمن بھی منشور کمیٹی کا حصہ ہیں۔

ن لیگ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق راحیلہ درانی، سیکریٹری اطلاعات سندھ، سیکریٹری اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری، ناصر محمود، کامران مائیکل، سینیٹر نزہت صادق، رانا مشہود احمد خان بھی کمیٹی کے رکن مقرر کیے گئے ہیں جبکہ گلگت بلتستان سے حافظ حفیظ الرحمان، آزاد جموں و کشمیر سے شاہ غلام قادر بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا کہ سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان، بیرسٹر امجد ملک، سلمہ بٹ، عاشق کرمانی، راحیلہ خادم حسین، رانا سکندر حیات، مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب، اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل بلال اظہر کیانی، علی پرویز ملک اور شزا فاطمہ خواجہ بھی منشور کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور عوامی امنگوں سے خالی ہیں۔

ریسرچ ادارے نے سیاسی جماعتوں کے منشور کی قلعی کھول دی، ملک کے صرف 20 فیصد مسائل کے حل کا پلان پاکستان کی 3 بڑی سیاسی جماعتوں کے منشور کا حصہ ہیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منشور کا موازنہ کیا ہے۔

پائیڈ کی نئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں 18 اہم مسائل اور سیکٹرز کا انتخاب کیا گیا اور 18 شعبوں سے متعلق سیاسی جماعتوں کے پلان کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لوکل گورنمنٹ، پارلیمنٹ، الیکشن، کابینہ، پولیس، بیوروکریسی، بجٹ سازی، ایس او ایز اور انٹرنیٹ کے شعبے تحقیق کا حصہ بنائے گئے۔

پائیڈ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق پیپلز پارٹی کے پاس 18 میں سے 17 شعبوں کے مسائل کا حل کا پلان موجود نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے پاس 18 شعبوں میں سے 13 کے مسائل کا پلان موجود نہیں جبکہ ن لیگ 18 میں سے 12 شعبوں کے مسائل کا حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم ریسرچ ادارے نے سیاسی جماعتوں کے لئے مسائل حل کرنے کا پلان منشور کا حصہ بنانے پر زور دیا۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں