سپریم کورٹ نے اپنے حکم پرافسران کے عہدوں کیساتھ صاحب کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگا دی۔
عدالتِ عظمٰی نے دس سالہ بچے کے قتل کے کیس کی سماعت کے دوران ملزم کی ضمانت منظورکرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی اور پولیس افسران کی سخت سرزنش کی۔ کہا کہ پولیس نے بچہ مرنے کے ذمہ داران کے تعین کیلئے کوئی تفتیش نہیں کی۔
سپریم کورٹ نے اپنے حکم پر افسران کے عہدوں کیساتھ صاحب کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے کہا کہ افسران کے عہدوں کیساتھ صاحب کا لفظ آزادی کے حصول کی بنیاد کی نفی کرتا ہے، صاحب کا لفظ سرکاری افسران و ملازمین کو احتساب سے بالاتر بناتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی ڈی ایس پی کو صاحب کہتے رہے، ناقص تفتیش کی مثال دینے کیلئے یہ بہترین کیس ہے۔
چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں تفتیشی افسرسے معلومات لینے پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کمرہ عدالت کو اپنا دفترسمجھ رکھا ہے؟ دفتر کے کام عدالت میں کرنا سپریم کورٹ کیلئے غیرسنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، ملزم کیخلاف کیا شواہد ہیں؟
ڈی ایس پی انویسٹی گیشن پشاورنے جواب دیا کہ دوگواہان نے ملزم کیساتھ بچے کو جاتے ہوئے دیکھا، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ گواہ تو آپ چار بھی ڈال سکتے تھے شواہد کہاں ہیں؟ ڈی ایس پی نے جواب دیا کہ بچہ اپنے چچا کی ورکشاپ میں کام کرتا تھا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کوئی چچا اپنے بھتیجے کوکسی غیرکیساتھ کیسے جانے دے سکتا ہے؟ ورکشاپ والوں نے بچے کے اہلخانہ کو 16 دن بعد کیوں آگاہ کیا؟ پولیس نے ورکشاپ ملازمین کے بیانات کیوں نہیں ریکارڈ کیے؟ سب سے ناقص تفتیش کے پی پولیس کی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ ملزم جاوید خان پر10 سالہ حمزہ کے قتل کا مقدمہ پشاور میں درج تھا۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کولائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















