حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ اس وقت فلسطین میں جنگ نہیں نسل کشی کی جارہی ہے۔
تفصیلات کےمطابق پاکستان علمائے کونسل کے سربراہ علامہ مولانا طاہر اشرفی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کا ہے ، پہلے اسپتالوں کو بمباری کرکے انہیں تباہ کیا گیا اور گزشتہ دو روز سے الشفاء اسپتال میں اسرائیلی ظلم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملنا لازم ہے، لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی مظلوم ہیں البتہ 12 ہزار کے قریب اب شہید ہیں، یہ جنگ مسلم اور غیر مسلم کی نہیں بلکہ ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے۔
پاکستان علمائے کونسل کے سربراہ علامہ نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت جو کچھ کرسکتی ہے وہ کررہی ہے، خود آرمی چیف نے فلسطینی سفیر کو مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے، آج یو این او نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی میں جو طے ہوا ہے کہ جو ملک اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کررہے ہیں وہ بند کریں، ایک لمبے عرصے بعد پوری امہ ایک مؤقف کیساتھ سامنے آئی ہے، فوری جنگ بندی، امداد کی فراہمی، خود مختار ریاست اور اسرائیلی جرائم پر تحقیقات کے متفقہ مطالبات او آئی سی کے سامنے آئے۔
پاکستان علمائے کونسل کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت فلسطین میں جنگ نہیں نسل کشی کی جارہی ہے، مسئلہ فلسطین و کشمیر امت مسلمہ کے مسائل ہیں جن میں کامیابی مظلوموں کی ہوگی، ملک بھر میں پیغام پاکستان علماء و مشائخ کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حج پالیسی 2024ء کا خیر مقدم کرتے ہیں، سرکاری کیساتھ نجی طور پر خدمات کرنے والے بھی عازمین کو سہولیات فراہم کریں، حرمین الشریفین میں سیاست کی بجائے عبادت کی جائے، اس لئے عمرہ یا حج پر اس ادب کو ملحوظ خاطر رکھے۔
مولانا طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی سربراہی سعودیہ کے پاس ہے جس میں 57 ممالک نے او آئی سی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ اسلامی ممالک کے آدھے سے زیادہ ممالک کے تعلقات اسرائیل کیساتھ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تین سے چار ممالک نے ہی اپنے سفیر واپس بلائے، او آئی سی کی قراردادوں کی روشنی میں مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے مگر اسرائیل بربریت پھیلانے والا درندہ بن چکا ہے۔
پاکستان علمائے کونسل کے سربراہ علامہ مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی ممالک اور او آئی سی مزید سخت اقدامات بھی اٹھائے، ہمیں پاکستانی ہونے اور اس موقف پر فخر ہے، پاکستان آج بھی بابائے قوم کے موقف پر قائم ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















