مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج پاکستان کو معاشی بحران کا شکار کیا جارہا ہے۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا جبکہ پاکستان مسلمان ملک ہے لیکن یہ اسلامی ملک نا بن سکا، ہمیں نئے طریقے سے معلومات کو استوار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بیرونی ممالک نے تباہ کردیا جبکہ ایران اور افغانستان ہم سے بہتر اور آگے جارہے ہیں، پاکستان کی آزادی کے لیے عوام لڑ رہے ہیں، صرف چیئرمین پی ٹی آئی مجرم نہیں ان کو لانے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
جے یو آئی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ قوم کو مزید اندھیرے میں دھکیلا گیا ، قبائل کے انضمام کا فیصلہ غلط تھا ، قوم پرست کہتے تھے کہ میں قبائل کے انضمام کے خلاف ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سو ارب روپے کا سالانہ اعلان صرف اعلان رہ گیا ، جو لوگ آج جلسوں میں قبائل حقوق کی بات کرتے ہیں یہی قبائل کے دشمن ہیں۔
جے یو آئی سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے داخلی سیاست سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ، فلسطین اور کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے ؟
انہوں نے کہا کہ ہم پر قربانی دینے والوں کا قرض ہے، آج پاکستان کومعاشی بحران کا شکار کیا جارہا ہے، ہم پاکستان کے استحکام کے لئے نظریہ لے کر آئے ہیں جبکہ انقلاب وطن کے لیے نئی راہیں تلاش کرنی ہیں۔
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان مسلمانوں کاملک ضرور ہےمگر اسلامی ریاست کاروپ نہیں دھارا، کیا ہم نے 75سالوں میں کلمہ کا حق ادا کیا؟ نئے زاویئے کے ساتھ نئے مستقبل کو تراشنا ہوگا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں



















