Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کیلئے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، نگران وزیرِ اعظم

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیرِ صدارت پاکستان موسمیاتی تبدیلی کونسل کا دوسرا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں کونسل کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی اٹھائیسویں کانفرنس آف پارٹیز (COP-28) میں پاکستان کی شمولیت، ایجنڈے اور لائحہ عمل کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

 اجلاس کو گزشتہ اجلاسوں میں متعین کردہ  پاکستان کے اہداف اور انکے حصول کیلئے لیے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

اجلاس کو تجویز دی گئی کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات اور دنیا بھر میں پاکستان کا اس حوالے سے کیس مضبوط کرنے کیلئے COP سیل کا قیام عمل میں لایا جائے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان COP-28 میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے لاحق خطرات اور اس سے بچاؤ کے حکومتی اقدامات پر رپورٹ بھی پیش کرے گا۔

اجلاس کو پاکستان کی کاربن مارکیٹس میں تجارت کیلئے پالیسی گائیڈلائنز پر بھی بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس کو کانفرنس کیلئے پاکستان پویلئین کے قیام اور وہاں منعقد ہونے والی سرگرمیوں پر بھی بریفنگ دی گئی

اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام متعلقہ حکومتی اورنجی اداروں، این جی اوز اور سول سوسائٹی  کی مشاورت سے ایک جامع پالیسی فریم ورک بنایا جا رہا ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔

نگران وزیرِ اعظم انوار الحق نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، پاکستان کا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی بڑھانے میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن اس سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں پاکستان سر فہرست ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پاکستان کی ایک تہائی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی، پاکستان اور دیگر موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ترقی پذیر ممالک ان خطرات کا شکار صرف ترقی یافتہ ممالک کی وجہ سے ہیں۔

انوار الحق نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرات سے بچاؤ کے اقدامات کی ضرورت ہے، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آواز اٹھانے والے پاکستان کے ایکٹیوسٹ اس شعبے میں اقدامات کیلئے لائقِ تحسین ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی COP-28 میں پاکستان بھرپور طریقے سے اپنا کیس پیش کرے گا، وزارت موسمیاتی تبدیلی تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کا وفد COP-28 میں شرکت کیلئے بھیجے۔

نگران وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے نپٹنے کیلئے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی فریم ورک تیار کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ فریم ورک کی تیاری میں اسکالرز اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہرین کی شمولیت یقینی بنائی جائے، پاکستان دنیا بھر کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملکوں کے کیس کو بھرپور طریقے سے اقوامِ عالم کے سامنے رکھے گا۔

انوار الحق نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تحت پاکستان موسمیاتی تبدیلی کونسل سے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی جبکہ کمیٹی پاکستان میں کاربن کریڈٹس کی مارکیٹ کی تشکیل اور تجارت کیلئے ایک جامع پالیسی فریم ورک بنانے اور اسے مزید بہتر و مؤثر بنانے کیلئے کام کرے گی۔

 نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت خارجہ اور تمام متعلقہ اداروں کے اقدامات کی تعریف کی جبکہ نگران وزیرِ اعظم انوار الحق نے مذکورہ اقدامات کو معینہ مدت میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں نگران وفاقی وزراء احمد عرفان اسلم، شمشاد اختر، جلیل عباس جیلانی، عمر سیف، کوثر عبدالملک، سمیع سعید، محمد علی، وزیرِ اعلی گلگت بلتستان گلبر خان، چاروں صوبائی حکومتوں کے نمائندوں، سول سوسائٹی، این جی اوز، موسمیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت کی۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

 

متعلقہ خبریں