الیکٹیبلز کی (ن) لیگ میں شمولیت کے معاملے پر لیگی رہنماؤں نے پارٹی کو بڑی دھمکی دیدی۔
تفصیلات کے مطابق الیکٹیبلز کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے معاملے پر پارٹی میں اعتراضات سامنے آگئے جس کے باعث پارٹی کو وسطی و جنوبی پنجاب سمیت خیبر پختونخوا میں مزاحمت کا سامنا ہے۔
الیکٹیبلز کی شمولیت پر مختلف اضلاع سے مزاحمتی آوازوں میں شدت آنا شروع ہو گئی ہے۔
وسطی پنجاب سے سرگودھا، جہلم، گجرات، فیصل آباد ڈویژن، اوکاڑہ، بھکر اور راولپنڈی ڈویژن جبکہ جنوبی پنجاب میں ملتان، مظفرگڑھ، خانیوال، میانوالی، رحیم یار خان اور راجن پور سے اختلافی آوازیں بلند ہوئیں۔
سابقہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز بھی الیکٹیبلز کی شمولیت پر ناخوش ہیں۔
الیکٹیبلز کے حلقوں سے تعلق رکھنے والے لیگی اراکین کا موقف ہے کہ سابقہ دور میں سخت اپوزیشن ہم نے کاٹی، مقدمات بھی بھگتے، ہم ماریں بھی کھاتے رہے، مشکل وقت بھی کاٹتے رہے، ہم نے اس وقت کی حکومت کی جانب سے پرکشش آفرز کو پارٹی کے لئے ٹھکرایا، مشکل وقت ختم ہونے پر اس دور کے ہمارے مخالفین کو ہی اب ہمارے سر پر لا بٹھا دیا گیا ہے۔
لیگی اراکین نے اعتراضات اٹھائے کہ ایسے ہی حالات رہے تو اپنے حلقے کے عوام کی رائے کے مطابق ہم آزادانہ حیثیت میں انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، پارٹی قائد نواز شریف اس سارے معاملے میں خود مداخلت کریں اور ہم سے براہ راست بات کریں، جن جن علاقوں یا حلقوں میں پارٹی کمزور ہے، صرف وہاں الیکٹیبلز کو پارٹی میں شامل کیا جائے، ماضی میں انہی الیکٹیبلز نے ہمیشہ مسلم لیگ ن کو دھوکہ دیا ہے، مشکل وقت آنے پر اب بھی الیکٹیبلز پارٹی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، مشکل وقت میں ثابت قدمی سے پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے والے لیگی اراکین کے حلقوں میں الیکٹیبلز کو شامل نہ کیا جائے۔
الیکٹیبلز کے حوالے سے اعتراضات پر پارٹی میں مزید الیکٹیبلز کی شمولیتیں عارضی طور پر روک دی گئی ہے، صرف ان حلقوں کے ایلکٹیبلز کی شمولیت جاری رہے گی جہاں مقامی قیادت کو اعتراض نہیں ہو گا، مزید الیکٹیبلز کی شمولیت اور حلقوں میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر حتمی فیصلہ نواز شریف کرینگے۔



















