Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چیف الیکشن کمشنر سے امیدیں ہیں لیکن ان پر یقین نہیں، خالد مقبول صدیقی

ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سے امیدیں ہیں لیکن ان پر یقین نہیں۔

تفصیلات کے مطابق خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے، نگران حکومتیں آگئی ہیں مگر سندھ میں ہم نگران حکومت کے منتظر ہیں، سندھ میں نگران حکومت کم پیپلز پارٹی کی حکومت ذیادہ ہے، سندھ میں جو حکومت ہے وہ نگران نہیں ہے دس دس سال وزارت کرنے والے ابھی بھی حکومت چلا رہے ہیں۔

خالد مقبول نے کہا کہ ہمارے اعتراضات اتنے واضح تھے کہ سب نے اتفاق کیا، آئندہ عام انتخابات سے قبل تمام ملک میں نگران حکومتیں آچکی ہیں، سندھ میں ہمیں نگران حکومت کا انتظار ہے، سندھ کی نگران حکومت پیپلز پارٹی کے مفادات کے نگران ہے، اب اس کے اثرات الیکشن کمیشن تک پہنچتے نظر آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جب اعتراضات پیش کیے تو سب نے تائید کی، سندھ کے اندر پیپلز پارٹی کے تمام اعتراضات مرضی کے مطابق درست کیے لیکن باقی کسی جماعت کو الیکشن کمیشن نے انٹرٹین نہیں کیا، کوٹہ سسٹم کے تحت سندھ کو تقسیم کیا جاتا رہا ہے، سندھ تو دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر سے امیدیں ہیں لیکن یقین نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک پیپلز پارٹی کے حلف یافتہ افسر یہاں ہیں، صوبائی چیف کمشنر سندھ مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے طور پر کام کر رہے ہیں، بڑی بدنصیبی ہو گی کہ حالات دو ہزار اٹھارہ کی طرف جائیں، اس طرح کے اقدام سے شفافیت پر سوالات تو اٹھیں گے، حتمی حلقہ بندیوں کے بعد ترمیم کی بہت معمولی گنجائش ہے۔

فاروق ستار نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر پیپلز پارٹی کے تمام اعتراضات منظور کر لیے، جو حلقہ بندیوں میں غلطیاں تھیں وہ مزید بڑھ گئیں، لیول پلینگ کی کیا بات ہو گی جب حلقہ بندیوں میں اس حد تک ناانصافیاں ہیں، میرپور خاص ہمارا روایتی حلقہ ہے، کراچی کے اربن ایریا کو تقسیم کیا گیا، پیسہ بولتا ہے اور پیسہ بول رہا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ دیر قبل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے وفد نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے ملاقات کی۔

ایم کیو ایم وفد میں فاروق ستار، خالد مقبول، جاوید حنیف، عبدالحفیظ شامل تھے۔

وفد نے اس موقع پر کراچی میں حلقہ بندیوں کے حوالے سے تحفظات سامنے رکھے۔

خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو حلقہ بندیوں اور صوبائی الیکشن کمیشن سندھ کے حوالے سے تحفظات تھے جس پر گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر نے تحفظات اور شکایات دور کرنے کیلئے پارٹی وفد کو ملاقات کیلئے بلایا تھا۔

متعلقہ خبریں