نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ کسانوں کی فلاح و بہبود ریاست کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔
تفصیلات کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ سے بلوچستان کی زمیندار ایکشن کمیٹی کے وفد نے ملاقات کی جس میں وفد نے وزیراعظم کو بلوچستان میں زرعی شعبے کے مسائل اور صوبہ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ملاقات میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے صوبائی انتظامیہ کو بجلی کی فراہمی، آبپاشی اور کسانوں کے دیگر مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو صوبہ میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں کی فلاح و بہبود ریاست کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔
علاوہ ازیں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال ایسی ہے سب کو پتا ہے کون کس حلقے سے جیتے گا، داغدار اور غیر داغدار کی باتیں 70 کی دہائی سے چل رہی ہیں، ہم الیکشن کرائیں گے، الیکشن کمیشن اس کا انعقاد کرے گا۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہم الیکشن نہ کراتے تو یہ داغ ہوتا، جن کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملی وہ کون سا داغ لیکر چلے، ہم کون سا داغ لے کر جائیں گے، انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے، لوگ کہتے ہیں بلوچستان میں شفاف الیکشن نہیں ہوئے، قوم پرست جماعتوں نے ووٹرز کو کچھ نہ کچھ تو کہنا ہوتا ہے، قوم پرست ہر چیز کو اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقیم افراد سے متعلق حکومت کی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی۔
دوسری جانب کچھ دیر قبل انوار الحق کاکڑ نے کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانا ہمارا ہدف ہے، 2008 میں بلوچستان سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانا ہمارا ہدف ہے، بلوچستان کے اہم اداروں کو سہولتیں فراہم کرنا ذمےداری ہے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے فنکاروں اور ہنرمندوں کیلئے بہت اقدامات کرینگے، حکومت میڈیا کی افادیت سے بخوبی آگاہ ہے، کئی جگہوں پر ناکامیاں ہوئیں لیکن ہماری نیت خراب نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اصل پہچان اسکا سلیقہ ہے جبکہ اس کا اصل خزانہ اسکے لوگ اور تہذیب ہے۔



















