پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے 14واں اجلاس کی اندرونی کہانی بول نیوز سامنے لے آیا۔
اجلاس میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے مختص امیدواروں کے انٹرویوز کئے گئے، اجلاس کی صدارت قائد نواز شریف، پارٹی صدر شہباز شریف نے کی۔
اجلاس میں چیف آرگنائزر مریم نواز اور خواتین ونگ کی صدر سمیت تمام صوبائی صدور نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں پڑھی لکھی اور حزب مخالف کا احسن انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھنے والی خواتین کو بھی ترجیحی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں قائد نواز شریف نے خواتین امیدواروں سے خود سوال و جواب کئے، خواتین رہنماوں و کارکنوں کی گذشتہ کارکردگی، قابلیت اور اہلیت بارے تمام تر ڈیٹا قائد نواز شریف کے پاس پہلے سے موجود تھا۔
قائد نواز شریف کی جانب سے خواتین کارکنوں سے ان کی اب تک پارٹی کے لئے کی گئی خدمات بارے سوالات کئے گئے جبکہ قائد نواز شریف نے سابقہ اسمبلیوں میں اراکین رہنے والی خواتین امیدواروں سے ان کی کارکردگی بارے زیادہ سوالات کئے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ قائد نواز شریف کی جانب سے مخلص، متحرک اور فعال خواتین کارکنوں کے لئے خصوصی شفقت بھرے الفاظ کا استعمال کئے گئے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے قائد نواز شریف نےکہا کہ جن خواتین کارکنوں نے مشکل دور میں پارٹی کے لئے قربانیاں دیں، انہیں کبھی نہیں بھول سکتا،پارٹی کے لئے جان و مال سے قربانی دینے والی خواتین کارکنوں کو کسی نا کسی صورت لازمی پے بیک کرینگے۔
مسلم لیگ ن پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں کا شیڈول ایک بار پھر تبدیل
مسلم لیگ ن پارلیمانی بورڈ کے اجلاسوں کا شیڈول ایک بار پھر تبدیل کردیا گیا ہے، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کے نمائندوں کے انٹرویوز 26 دسمبر کو ہوں گے۔
لاہور کے امیدواروں کے انٹرویوز 25 دسمبر کو کیے جائیں گے جبکہ قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ کے امیدواروں کے انٹرویوز 23 دسمبر کو ہوں گے۔
خیال رہے کہ پارلیمانی بورڈ کل اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کے انٹرویوز کرے گا۔



















