پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی حمایت نہیں کی۔
بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے سینیٹ میں انتخابات ملتوی کرنے کی قرارداد کی حمایت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری واضح کرچکے ہیں کہ ہم وقت پر الیکشن چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی بروقت ، منصفانہ اور شفاف انتخابات چاہتی ہے جب کہ الیکشن کے لیے 8 فروری کی تاریخ سپریم کورٹ نے دے دی ہے ، ہماری انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور امیدواروں کو بھی فائنل کرلیا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ الیکشن ملتوی کرنے کی قرارداد صرف 14 سینیٹرز کی موجودگی میں پیش کی گئی، کورم بھی پورا نہیں تھا، ہمارے سینیٹر تنگی نے اس کی مخالفت کی تاہم ان کی مخالفت اگر واضح نہیں تھی تو ان سے پارٹی اس حوالے سے وضاحت مانگے گی۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے دس نکاتی چارٹر بھی دیا ہے، ہماری تیاری بھی پوری ہے،جو یہ کہتا ہے کہ سیکورٹی کا ایشو ہے تو پیپلز پارٹی 2007 میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار رہی، اس کے باوجود ملک میں انتخابات ہوئے۔
اس سے قبل پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ بھی سینیٹ قرار داد پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں کورم بھی پورا نہیں تھا اس لیے اسے کثرت رائے کہنا درست نہیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آئین کے خلاف کوئی فیصلہ اور کوئی قرارداد قابل قبول نہیں، الیکشن سے فرار ملک کو بحران سے دوچار کرسکتا ہے، سینیٹ میں ملک کی بڑی جماعتوں کی غیرموجودگی میں قرارداد کا کوئی جواز نہیں تھا۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی نے سینیٹ میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کا شیڈول ملتوی کرنے سے متعلق قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والے پارٹی رکن بہرومند تنگی کو نوٹس جاری کردیا۔ شوکاز نوٹس میں بہرومند سے ایک ہفتے میں وضاحت طلب کی گئی ہے کہ آپ نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کیوں کی اور آپ نے سینیٹ میں قرار داد کے حق میں تقریر بھی کی۔
ایوان بالا (سینیٹ) نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ اجلاس میں قرارداد کی منظوری کے وقت 14 سینیٹرز موجود تھے، اس دوران (ن) لیگ کے سینیٹر افنان اللہ سمیت دو ارکان نے قرارداد کی شدید مخالفت کی جب کہ بلوچستان عوامی پارٹی، فاٹا اراکین اور پیپلز پارٹی کے بہرمند تنگی نے 8 فروری 2024 کوانتخابات معطل کرنے کی قرارداد کی حمایت کی ہے۔



















