صوبائی حکومت نے نرسری وپلے گروپ کی کلاسز کے لیے 7 روز کی تعطیلات کا اعلان کر دیا۔
پنجاب میں یکم جنوری سے 36 بچے نموینہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں اور چلڈرن اسپتال میں 10 میں سے 8 بچے نموینہ کے مرض میں مبتلا ہیں۔ سردی میں اضافے کے ساتھ وائرل نموینہ خصوصاً بچوں میں مرض بڑھ رہا ہے۔
پنجاب میں نمونیہ کے کیسز بڑھنے پر صوبائی حکومت نے 7 روز کی تعطیلات کا اعلان کردیا، یہ چھٹیاں نرسری اور پلے گروپ کے بچوں کو دی گئی ہیں جب کہ پنجاب بھر کے اسکولوں میں 31 جنوری تک صبح کی اسمبلی پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔
یاد رے کہ لاہور سمیت پنجاب میں 22 دن کی موسم سرما کی تعطیلات 9 جنوری کو ختم ہوگئی تھیں اور آج سے تمام سرکاری و نجی اسکولز میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔
نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ چلڈرن اسپتال کی ایمرجنسی میں ہر 10 بچوں میں سے 8 نمونیہ کا شکار ہیں، یکم جنوری سے 9 جنوری تک 36 بچے نمونیہ سے جاں بحق ہوگئے ہیں، نمونیہ سے فوت ہونے والے زیادہ تر بچے کم عمر ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ پریپ اور نرسری کی کلاسز 19 جنوری تک بند کر دی گئی ہیں، البتہ پہلی کلاس اور دیگر کلاسز جاری رہیں گی لیکن 31 جنوری تک اسکولوں میں اسمبلی پر پابندی لگا دی گئی ہے کیوں کہ صبح کے وقت سردی زیادہ ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پہلی سے دسویں جماعت تک اسکول بند کرنے کی ضرورت نہیں تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے بچوں کو گرم کپڑے پہناکر اسکول بھیجیں۔



















