ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان کو سپورٹ نہیں کررہی، یہ ایک نجی دورہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نجی حیثیت میں افغانستان گئے ہیں، حکومت پاکستان اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان کے دورے کو سپورٹ نہیں کر رہی، مولانا فضل الرحمان کے دورے اور ملاقاتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے،دورے کے بعد مولانا فضل الرحمان سے بریفنگ لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کالعدم ٹی ٹی پی سے ڈائیلاگ میں دلچسپی نہیں رکھتا، ہمارا مطالبہ وہی ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف افغانستان کی عبوری حکومت ایکشن لے جبکہ پاکستان ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی میں یقین رکھتا ہے، امید ہے ڈائیلاگ کے ذریعے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے غزہ کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقا کے غزہ کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم جنوبی افریقا کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پاکستان جنوبی افریقا کے اس قانونی عمل کو بروقت سمجھتا ہے اور غزہ میں فوری جنگ بندی اور فلسطینیوں کا قتل عام رکوانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ 70 سال سے بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت سے انکار کر رہا ہے،بھارت نے پلوامہ کا ڈرامہ سیاسی گیم کے لیے کیا، اجے بساریہ کا بیان بھارت کی فسطائی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔



















