پاکستان نے ایرانی حکام سے گھناؤنے واقعےکی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے، زاہدان میں پاکستانی قونصل زخمیوں کی عیادت کے لئے اسپتال پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طویل فاصلے اور سیکورٹی کے باعث پاکستانی قونصل کو اسپتال پہنچنے میں چند گھنٹے لگیں گے، پاکستانی قونصل جنرل مقامی ایرانی حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔
ممتاز زہرہ بلوچ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان معاملے کی سنگینی سے آگاہ ہے، واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں، پاکستانی قونصل جنرل ایرانی حکام پر مجرموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی پر زور دیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستانی سفارتخانہ شہریوں کے جسد خاکی جلد از جلد وطن واپس لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا، ایسے بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے عزم خو متزلزل نہیں کر سکتے۔
دہشت گرد سربرمچاروں کا ایرانی سرزمین پر پاکستانیوں شہریوں پر حملہ، 9 پاکستانی شہید
پاکستان دشمن دہشتگرد سرمچاروں نے ایرانی سرزمین پر پاکستانی شہریوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں میں 9 پاکستانی شہید اور 5 زخمی ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق دہشتگرد سرمچاروں نے سراوان میں کارروائی کرکے9 پاکستانیوں کو شہید کیا، شہید پاکستانی ایران میں مزدوری کا کام کرتے تھے۔
واقعہ میں 5 پاکستانی شہری زخمی بھی ہوئے جنہیں سراوان کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے، دہشتگردی کے واقعے میں شہید 5 افراد کا تعلق علی پور کےمختلف علاقوں سے ہے۔
دہشتگرد سرمچاروں کا تعلق کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف سے تھا، مسلح افواج نے چند روز پہلے ایران میں دہشتگرد سرمچاروں کے7 ٹھکانوں کو تباہ کیا۔
اپنے پیاروں کی لاشیں پاکستان منتقل کرانے کے لئے لواحقین اےسی دفتر پہنچے جہاں اسسٹنٹ کمشنر علی پور نے لواحقین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
لواحقین کا مؤقف ہےکہ شہید پاکستانی8سال سے ایران میں محنت مزدوری کررہے تھے، دہشتگردوں نے گھر میں داخل ہوکر چن چن کر گولیاں مار کر شہیدکیا، حکومت لاشیں آبائی علاقوں میں منتقل کرنےکے لیےکردار ادا کرے۔



















