Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

9 پاکستانی مزدوروں کا قتل،سرمچاروں کی جوابی کارروائی یا گہری سازش؟

پاکستان دشمن دہشت گرد سرمچاروں کا ایرانی سرزمین پر پاکستانی شہریوں پر حملہ یقینا بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔دہشت گرد  سرمچاروں نے ایران کے شہر سراوان میں کارروائی کر کے 9 پاکستانیوں کو شہید کیا،ذخمیوں کو سراوان کے اسپتال میں منتقل کیا گیا ۔

تہران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو جنہیں اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالے دو روز بھی نہیں گزرے تھے،ان کی جانب سے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ دہشت گرد سرمچاروں کا تعلق کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف سے تھا۔پاکستانی مسلح افواج نے چند روز پہلے ایران میں دہشت گرد سرمچاروں کے 7 ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا۔ پاکستان کے آپریشن مرگ بر سرمچار میں متعدد دہشت گرد اپنے محفوظ ٹھکانوں میں جہنم واصل ہوئے تھے۔

نام نہاد  سرمچاروں کی دہشت گردی  کو جوابی کارروائی سمجھا جا سکتا ہے۔ سراوان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہونے والے 5 افراد کا تعلق علی پور کے مختلف علاقوں سے ہے،اپنے پیاروں کی لاشیں پاکستان منتقل کرانے کے لئے لواحقین اسسٹنٹ کمشنر آفس پہنچے۔علی پور کے ،اسسٹنٹ کمشنر نے لواحقین کو مکمل تعاون کرانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔لواحقین کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے پاکستانی گزشتہ 8 دس سال سے ایران میں محنت مزدوری کر رہے تھے۔

غالبا ان پاکستانی مزدوروں کو ان کے مخصوص نسلی پس منظر کے باعث نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق سرمچار دہشت گردوں نے گھر میں داخل ہو کر ایک ایک کو چن چن کر گولیاں مار کر شہید کیا۔لواحقین کی طرف سے لاشوں کی جلد از جلد وطن واپسی کا مطالبہ سامنے آیا ہے جس پر دفتر خارجہ نے مثبت ردعمل ظاہر کیا۔پاکستان کی طرف سے ایران میں اپنے شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔پاکستان نے ایرانی حکام سے گھنائونے واقعےکی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہزاہدان میں پاکستانی قونصل زخمیوں کی عیادت کے لئے اسپتال پہنچ رہے ہیں،طویل فاصلے اور سیکورٹی کے باعث پاکستانی قونصل کو اسپتال پہنچنے میں چند گھنٹے لگے۔

[پاکستانی قونصل جنرل نے مقامی ایرانی حکام سے بھی ملاقات کر کے مجرموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔پاکستان  یقینی طور پر معاملے  کی سنگینی سے آگاہ ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں، پاکستانی سفارتخانہ شہریوں کے جسد خاکی جلد از جلد وطن واپس لانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے۔

یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی بارہا نشاندہی حتی کہ آپریشن مرگ بر سرمچار کے باوجود ایرانی حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟ کیا ایرانی حکومت دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتی یا نیت میں فتور ہے؟ ایرانی حکومت خود کچھ نہیں کر سکتی تو اس کو یاد رکھنا چاہئیے کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردوں کو ٹھکانے لگانا اچھی طرح جانتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ایرانی حکام  پاکستانی شہریوں کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات کے باوجود سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام کیوں رہے؟

متعلقہ خبریں