بہت کم یا بہت زیادہ سونے والے افراد کے لئے بُری خبر آ گئی ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نہ صرف کم بلکہ زیادہ نیند بھی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ کم نیند امراض قلب، فالج، دماغی امراض، جسمانی صحت اور شوگر کی بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہے جبکہ ڈپریشن جیسی بیماری بھی بڑھتی ہے۔
ماہرین نے اس تحقیق کے لئے 40 ہزار درمیانی عمر کے افراد کی ذہنی صحت اور ان کے نیند کے دورانیے کا جائزہ لیا۔
ماہرین نے تمام افراد کے نیند کے دورانیے کا ریکارڈ جانچنے کے بعد ان کی دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان میں پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کو بھی دیکھا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ کم یا زیادہ نیند کی صورت میں دماغی اعصاب میں نمایاں تبدیلیاں ہوتی ہیں اور خصوصی طور پر دماغ کے ان حصوں میں خطرناک تبدیلیاں ہوتی ہیں جو یادداشت سمیت اعصاب کی حرکت میں متحرک کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ 7 گھنٹے سے کم اور 9 گھنٹے سے زیادہ نیند کرنے سے دماغ میں ایسی تبدیلیاں ہوتی ہیں جو فالج اور ڈیمینشیا جیسی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں صورتوں میں دماغ کے اندر فالج اور ڈیمینیشیا کا سبب بننے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں، اس لیے انسان کو معیاری اور مناسب نیند کرنی چاہئیے۔




















