عورت فاؤنڈیشن نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کروا دی۔
تفصیلات کے مطابق عورت فاونڈیشن نے چیف الیکشن کمشنر کو خط میں کہا کہ قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے پی پی پی، جماعت اسلامی، اے این پی، تحریک لبیک، جے یو آئی ایف، بی این پی خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہے، قومی اسمبلی جنرل نشستوں پر ایم کیو ایم نے9.6، مسلم لیگ ن نے 7.8 فیصد، پیپلز پارٹی نے 4.5، جماعت اسلامی نے 4.4، اے این پی نے 3.3 فیصد، ٹی ایل پی نے 0.9، بی این پی اور جے یو آئی ایف نے کسی خاتون کو ٹکٹ جاری نہیں کیا۔
خط میں شکایت کی گئی کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن جماعت اسلامی ٹی ایل پی اور ایم کیو ایم خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہے، سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم، اے این پی اور ٹی ایل پی خواتین کو جنرل نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہے، خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن ایم کیو ایم جماعت اسلامی اور جے یو آئی ایف خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہیں، بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ن ایم کیو ایم پی پی پی، ٹی ایل پی، جے یو آئی ایف 5 فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو دینے میں ناکام رہے۔
عورت فاؤنڈیشن نے مطالبہ کیا کہ اگر جماعتیں 5 فیصد ٹکٹ خواتین کو نہیں دیتیں تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں رہتیں، میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، اے این پی، اور ٹی ایل پی نے یہ بنیادی ضرورت پوری کی تھی۔ الیکشن کمیشن قانون کی خلاف ورزی کا نوٹس لے، خلاف ورزی کرنے والی جماعتوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔



















