ترجمان دفتر خاجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انتخابات مستحکم جمہوری معاشرے کی تشکیل کےعزم کے تحت ہوئے، انتخابی عمل نے ثابت کیا کہ بعض تجزیہ کاروں کی تشویش بے جا تھی۔
ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے حوالے سے بعض ممالک اور تنظیموں کے بیانات کو نوٹ کیا گیا ہے۔ بعض بیانات میں موجود منفی عنصر حیران کن ہے۔
دفترخارجہ نے کہا کہ ان بیانات میں انتخابی پیچیدگیوں کا احاطہ کیا گیا نہ ہی لاکھوں پاکستانیوں کی جانب سے جوش و جذبے سے حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کا اعتراف کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ منفی بیانات میں پاکستان میں غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے باوجود عام انتخابات کے پرامن اور کامیاب انعقاد کو نظرانداز کیا گیا۔ بعض بیانات تو حقائق سے مکمل قطع نظر کرتے دکھائی دیے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ملک گیر انٹرنیٹ کی بندش نہیں تھی، صرف دہشت گردی سے بچنے کے لئے موبائل فون سروس معطل کی گئی، انتخابی عمل نے ثابت کیا کہ بعض تجزیہ کاروں کی تشویش بے جا تھی، پاکستان میں انتخابات مستحکم جمہوری معاشرے کی تشکیل کے عزم کے تحت ہوئے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ دوستوں کی تعمیر تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں، انتخابی عمل کی تکمیل سے پہلے ہی منفی بیانات بے مقصد ہیں نہ کہ تعمیری، پاکستان متحرک جمہوریت کی تشکیل کے لئے کام کرتا رہے گا۔
دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ہرالیکشن اور پرامن انتقال اقتدار ہمیں اس مقصد کے قریب لے جاتا ہے، پاکستان کا جمہوریت کی جانب سفر کسی کی تشویش کا نہیں بلکہ عوام اور ہمارے بانیوں کے وژن کا مظہر ہے۔



















