جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد لانے کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سے متعلق بیان پر وضاحت دے دی۔
جمعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کے معاملے پر حلف پر بیان نہیں دینا چاہتا، جوچیزیں ہمارے سامنے ہوتی رہیں اس پرحلف پر مطالبہ غلط ہے، معاملے کو زیادہ بحث پرلانے کے بجائے تاریخ کےحوالے کیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا سمیت کہیں بھی شفاف انتخابات نہیں ہوئے، اختلافات کےباوجود پی ٹی آئی کا وفد ملاقات کر کے گیا، پی ٹی آئی وفد نے مثبت بات کہہ دی ہے، ان سے کہا آپ کی مہربانی آپ آئے ہیں لیکن دھاندلی ضرور ہوئی ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نوازشریف اور آصف زرداری کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات ٹوٹ بھی سکتے ہیں، دیکھتے ہیں پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کہاں تک جاتے ہیں، میری تحریک عدم اعتماد والی گفتگو کو اب پیچھے چھوڑ دینا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں؛ پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ میرا کارکن سوچتا ہے فضل الرحمن کا نام لے کر گالی دی گئی ہے، یہ احساسات ہر سطح پر موجود ہیں،ہمیں ان کو بھی سامنے رکھنا ہے جب کہ پی ٹی آئی کی مجھ سےمتعلق زبان پر درگزر سےکام لوں گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو دیےگئے انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے وقت جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید رابطے میں تھے۔
تاہم اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے آج وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز جنرل (ر) فیض حمید کا نام غلطی سے میری زبان پر آگیا۔
واضح رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے دو ٹوک الفاظ میں مولانا فضل الرحمان کے بیان کی تردید کی ہے۔



















