سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹی نے لیاقت علی چٹھہ کی پریس کانفرنس کی ٹرانسکرپٹ کیلئے پیمرا کو خط لکھ دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن کے چھ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے تحریری بیانات جمع کروا دیے جس میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے سابق کمشنر راولپنڈی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی خصوصی کمیٹی تحقیقات کے دوران قومی اسمبلی کے 13 اور صوبائی اسمبلی کے 26 حلقوں کے ریٹرننگ افسران کے بیانات قلم بند کرے گی۔
اٹک، جہلم، چکوال، تلہ گنگ اور مری کے علاقوں پر مشتمل راولپنڈی ڈویژن میں قومی اسمبلی کی 13 جبکہ پنجاب اسمبلی کی 26 نشستیں ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کی نگران حکومت نے بھی لیاقت چٹھہ کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے، ایف آئی آر الیکشن ایکٹ اور ضابطہ فوجداری کے تحت درج کرائی جائے گی۔
دو روز قبل نئے کمشنر راولپنڈی سیف انور جپہ نے راولپنڈی ڈویژن کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سابق کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ حالیہ انتخابات میں کمشنر کا کوآرڈی نیشن کے علاوہ کوئی تعلق نہیں۔
اس موقع پر راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال اور تلہ گنگ کے ڈی آر اوز نے کہا کہ انتخابات نہایت شفاف اور درست انداز میں ہوئے، ان پر کوئی دباؤ نہیں تھا۔



















