Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

 صدر عارف علوی پر آئین توڑنے کے دو مقدمات ہونگے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صدر عارف علوی پر آئین توڑنے کے دو مقدمات ہوں گے۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عارف علوی پر ایک مقدمہ عدم اعتماد کے وقت اسمبلی توڑنے کا ہو گا اور دوسرا مقدمہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس نہ بلانے کا ہو گا

انہوں نے کہاکہ صدارت عارف علوی کے بس کی بات نہیں،شروع تو وہاں سے ہوں گے کہ علوی صاحب نے آئین توڑا، عارف علوی آئین کو توڑتے ہوئے اپنا فرض نہیں نبھا رہے، صدر آئینی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو اسپیکر پوری کردیں گے۔

 بلاول بھٹو زرداری  نے کہاکہ آصف زرداری صدر منتخب ہوں گے اور  صدر منتخب ہونے کے بعد وہ خود گورنرز منتخب کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ آئین، قانون، فیکٹ کی بات کرتی ہے، ذوالفقار علی بھٹو کا جوڈیشل ٹرائل نہیں عدالتی قتل ہوا تھا،آج پھر ہم سپریم کورٹ کی سماعت میں پیش ہوئے،ابھی تک تمام سماعتیں اچھے طریقے سے ہوئی ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ میں،آصفہ،بختاور،ذوالفقارجونیئریافریقین کوپیش ہونےکاموقع ہی نہیں ملا،جج صاحبان کے سامنے تیزی سے ثبوت پیش کیےجارہےہیں،امید ہے ہمیں انصاف ملے گا ،سپریم کورٹ آئین و قانون کے مطابق بات کررہی ہے،عدالت میں وکلا نے شواہد کے پہاڑ پیش کیے۔

 چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہاکہ ایک مثال قائم کریں گے کہ آنے والے دنوں میں ناانصافی نہ ہو، وکلا یہ ثابت کرتےجارہےہیں شہید بھٹوکا ٹرائل نہیں جوڈیشل قتل تھا،وکلا تیزی کے ساتھ ثبوت پیش کرتے جارہے ہیں، امید ہے ہمیں اور اس ملک کے عوام کو انصاف ملے گا، ایسی مثال قائم ہو کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنا ہوگی، اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

بلاول بھٹونے کہاکہ  ہم نے ووٹ مانگنے والوں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا، سنی اتحاد کونسل نے میرا ووٹ مانگا ہی نہیں، اب یہ کسی اور کے حکومت بننے پر کیسے اعتراض کر رہے ہیں، سنی اتحاد نے مجھے شہباز شریف کو ووٹ نہ دینےکی درخواست تک نہ کی۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ انہوں نے حکومت بنانے کی کوشش ہی نہیں کی، یہ اکیلے حکومت بنانےکی پوزیشن میں نہیں تھے، سنی اتحاد کونسل نے مریم نواز، مراد علی شاہ کو وزارئے اعلی بنوا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایک دوسرے کی عزت کریں،سیاستدان ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے تو امید نہ رکھیں کہ کوئی ادارہ کرے گا،اگر ایسا ہی رہا تو اگلی تین نسلوں تک بھی یہی تماشہ چلتا رہے گا،آصف زرداری کی مفاہمت کےعمل میں پی ٹی آئی شامل ہوگی۔

متعلقہ خبریں