پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف پاکستان کے 24 ویں وزیرِ اعظم منتخب ہوگئے ہیں۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے شہباز شریف اور عمر ایوب مدِ مقابل تھے۔
قومی اسمبلی میں ہونے والے انتخاب میں شہباز شریف نے 201 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب 92 ووٹ حاصل کر نے میں کامیاب ہوئے ۔
نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے منتخب کیا، ایوان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ قائد نوازشریف نے مجھے اس منصب کیلئے نامزد کیا، آصف ذرداری، بلاول بھٹو اور خالد مقبول صدیقی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، شجاعت حسین ، سالک حسین ،عبدالعلیم خان اورخالد مگسی کا بھی مشکور ہوں۔
انہوں نے کہاکہ پارٹی قائد نواز شریف کی لیڈر شپ میں پاکستان ترقی کرے گا اور انقلاب آئے گا، ہم نے کبھی بدلے اور انتقامی سیاست کا نہیں سوچا، تحمل اور برداشت کی سیاست کو فروغ دیا،ہم نے اپنی سیاست قربان کرکے ملک بچایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ نوازشریف تین بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے، ان کی لیڈر شپ میں ترقی و خوشحالی کے انقلاب آئے ، نوازشریف معمار پاکستان ہیں، 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نوازشریف کے دور حکومت میں ختم ہوئی، پاکستان میں ایٹمی قوت کی بنیاد رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت ،قانون اور انصاف کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، نوازشریف نے پورے ملک میں ترقی و خوشحالی کے مینار تعمیر کیے، قائد ن لیگ کی تمام عوامی منصوبوں پر تختیاں لگی تھیں۔
نو منتخب وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ نہ نواز شریف، نہ آصف ذرداری، نہ بلاول بھٹو نے پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کی نہ سوچا، جب بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو آصف ذرداری نے کہا پاکستان کھپے۔
شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف اور افواج کے خلاف زہر اگلا، 9 مئی کو اداروں پر حملے کیے گئے، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دو صوبوں کے وزیروں کو کہا گیا آئی ایم ایف سے کہو پاکستان کی مدد نہیں کرنی۔ نواز شریف، زرداری، بلاول، خالد مگسی نے کہا سیاست قربان ہو لیکن ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔
شہباز شریف نے کہاکہ مل کر کام کریں توہم ہمالیہ نماچیلنجزکوعبور کریں گے ، مل کرفیصلہ کرلیں تو پاکستان کو اس کا صحیح مقام دلائیں گے ، کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ، بڑے بڑے چیلنجز قوم کو کانٹے کی طرح چبھ رہےہیں ، ہم مل کرپاکستان کوعظیم بنائیں گےاورفخرسےآگے چلیں گے۔
نو منتخب وزیراعظم نے کہاکہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، نوازشریف نے کبھی ملک کےخلاف بات نہیں کی ،نوازشریف کا فیصلہ تھا دہشتگردی کےخلاف متحدہونا ہے ، نوازشریف کو جلا وطنی پر مجبور کیاگیا ، پی ٹی آئی نے پوری اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھےڈالا ،ہم نے ہمیشہ صبر سے کام لیا،کوئی گملا نہیں توڑا۔



















