Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹیکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہےکہ ٹیکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے بڑا اور طویل مدت کا پروگرام لینا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف پاکستان اپنے کوٹہ کے حساب سے بڑا پروگرام لینے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل مدت کا پروگرام لینا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام میں تسلسل رہیں گے تو معاشی نظم و ضبط رہے گا۔

محمد اورنگ زیب نے یہ بھی کہا کہ معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے زیادہ ہماری حکومت کا ہدف ہے، وزیراعظم شہباز شریف معیشت کی بہتری کے لیے کلیئر وژن رکھتے ہیں، وزیراعظم نے معاشی نظم و ضبط قائم رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں، آئی ایم ایف نے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں 1.1 ارب ڈالردینے ہیں، آئی ایم ایف نئے قرض پروگرام کا ابتدائی خاکہ تیار کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشی استحکام آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کا مشترکہ ہدف ہے، معیشت کی بہتری کے لیے نگران حکومت نے توجہ سے کام کیا، نجکاری کے معاملات فواد حسن فواد نے بڑی دلچسپی اور محنت سے چلائے۔

محمد اورنگ زیب نے کہا کہ ٹیکس آمدن کو ڈیجٹل طریقے سے جمع کرنا چاہتے ہیں، ٹیکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، قومی آمدنی میں ٹیکسوں کا حصہ 10 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے ساتھ ماحولیات کی فنڈنگ پر بھی بات ہوسکتی ہے، ماحولیات کی بہتری کے لیے آئی ایم ایف کچھ ممالک کو کوٹے سے زیادہ قرض دیتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں