ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ میں امدادی قافلوں پر حملے افسوسناک ہیں، خوراک تقسیم سینٹر پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے، رفح میں امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے بطور وزیر خارجہ چارج لے لیا ہے، نئے وزیر خارجہ کو مختلف امور پر بریفنگز دی جا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں وزیرخارجہ کی مصروفیات کے حوالے سے بریفنگ دیں گے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ بھارت کشمیری قیادت کو فوری طور پر رہا کرے، پاکستان آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، پاکستان سارک بنیادی اور ذمہ دار رکن ملک ہے، غزہ میں امدادی قافلوں پر حملے افسوسناک ہیں، اسرائیل سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، غزہ میں ہونے والے مظالم پر تشویش ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خوراک تقسیم سینٹر پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، یہ غیر انسانی حرکت ہے، پاکستان اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتا ہے، اقوام متحدہ قابض افواج کے مظالم رکوائے۔ پاکستان کشمیر نیشنل فرنٹ پر بھارتی پابندی کی شدید مذمت کرتا ہے۔
انھوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت فوری طور پر کشمیر کی سیاسی جماعتوں پر سے پابندی ہٹائے، پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کے یورپی یونین سے اہم اور وسیع تعلقات ہیں، جی ایس پی پلس ان تعلقات کا اہم جزو ہے۔
ممتاززہرا نے کہا کہ گذشتہ ہفتے دونوں فریقین کے سیاسی مذاکرات کا نواں دور ہوا، دونوں فریق مل کر تمام شعبوں میں کام جاری رکھیں گے، سب کیمٹی کا اجلاس 29 مارچ کو شیڈول ہے، پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، امید کرتے ہیں کہ امریکی کانگریس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 18 دسمبر2019 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی، ہندوتوا کی لہر نے بھارت میں اقلیتوں کو بہت متاثر کیا، پاکستان نے فلسطین کے ایشو پر او آئی سی میں متحرک کردار ادا کیا ہے، فلسطینی عوام کا قتل عام بند ہونا چاہیے، پاکستان نے 11 مارچ کو بھارتی میزائل ٹیسٹ کو نوٹ کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان کو میزائل تجربہ سے پہلے آگاہ کیا، یہ آگاہی معاہدے کے مطابق تین روز قبل نہیں دی گئی، معاہدے کے مطابق آگاہی دی جانی چاییے۔



















