وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس کے معاملات کو عوام بالخصوص کاروباری طبقے کے لیے آسان بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قانونی اور عدالتی اصلاحات کے لیے خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کمیٹی کو عام آدمی کی سہولت کیلئے سِول اور فوجداری قوانین میں آسانیاں پیدا کرنے کا لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت دی۔
کمیٹی میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، سپریم کورٹ بار کے صدر ، پاکستان بار کے نمائندے احسن بھون، سابق وزیر قانون زاہد حامد، شاہد حامد اور اٹارنی جنرل منصور اعوان شامل ہیں۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی کو عدالتی اصلاحات کے لیے آئینی اور قانونی ترامیم کا پیکج تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ خواہش ہے کہ لوگوں کو جلد اور آسانی سے انصاف فراہم ہو سکے، ٹیکس کے معاملات کو عوام بالخصوص کاروباری طبقے کے لیے آسان بنایا جائے۔
شہباز شریف نے کمیٹی کو ٹیکس وصولیوں کو مؤثر بنانے کے لیے قانونی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دی جبکہ وزیراعظم نے مالی اور ٹیکس معاملات پر 2 ہفتوں میں عبوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان میں 2400 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا عدالتوں اور ٹریبیونلز کے احکام امتناعی کی وجہ سے زیر التواء ہونا تشویشناک ہے۔
وزیراعظم کمیٹی کی فراہم کردہ رپورٹ کے نتائج پر عمل درآمد کے لیے سیاسی حلیفوں سے مشاورت کے بعد متعلقہ وزراء کو امور تفویض کریں گے۔



















