وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اسپورٹس ایڈوائزری کونسل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ، جس میں سابق کھلاڑی اور طلباءممبر ہونگے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت کی کہ کھیلوں کے فروغ اور ٹریننگ کے لئے ملکی اور غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کی جائیں۔
اس اجلاس میں 91 حلقوں میں ملٹی پرپز اسپورٹس گراؤنڈز بنانے پر اتفاق ہوا، اسپورٹس ڈپارٹمنٹ میں پلاننگ اور دیگر ڈویلپمنٹ امور کے لئےاسپیشل پلاننگ یونٹ بنے گا۔
گھوسٹ ملازمین کی شناخت کیلئے اسپورٹس ڈپارٹمنٹ میں بائیو میٹرک حاضری کی پابندی پر زور دیا گیا۔
پنجاب اسپورٹس بورڈ کی تشکیل نو کا بھی فیصلہ کیاگیا، جس کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے منظوری دیدی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے وزیر کھیل اور اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی کاوشوں کو سراہا،سیکرٹری اسپورٹس نے محکمہ کی ورکنگ سے متعلق بریفنگ دی۔
اجلاس میں مریم نواز نے بتایاکہ کھیلوں سے بہت لگاؤ ہے، زمانہ طالب علمی میں بیس بال ٹیم کی کپتان تھی، کھیلوں کی بحالی چاہتی ہوں اور بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعلی پنجاب نے کہاکہ نوجوانوں کے پاس مواقع کی کمی ہے اور نشہ کی طرف راغب ہورہے ہیں، نوجوان طبقے کےلئےکھیلوں کے انفراسٹرکچر کو فوری طور بحال کیا جائے، ہاکی کے مقابلے کروائے جائیں، ہمارا قومی کھیل ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسپورٹس کی ترقی کیلئے جتنے پیسے چائیے ملیں گے۔
نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کی ری ویمپنگ مکمل کر کے جلد افتتاح ہوگا۔ بریفنگ
انسٹیٹیوٹ آف اسپورٹس سائینس پنجاب کے قیام کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مریم نواز نے باسکٹ بال کو ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔
اسپورٹس اینڈوومنٹ فنڈ 2 ارب روپے سے قائم ہوگا ، جس کے فنڈ کیلئے مزید 2 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی سپورٹس سہولیات کی حفاظت کیلئے مینٹیننس ڈپارٹمنٹ بنانے کی ہدایت کی۔
بریفنگ میں کہاگیا کہ موسم گرما کی چھٹیوں میں بچوں کیلئے اسپورٹس کیمس لگائے جائیں گے۔



















