پاکستان بھر میں پولیو سے بچاؤکیلئے حفاظتی قطرے پلانے کی مہم شروع ہوگئی، بلوچستان کے گیارہ اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو کی خصوصی مہم آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بلوچستان کے مطابق انسدادِ پولیو کی یہ خصوصی مہم بلوچستان کے جن اضلاع میں شروع ہوئی ان میں چمن، ڈیرہ بگٹی، حب، لسبیلہ، نصیر آباد، سبی، جعفر آباد، کیچ، خضدار، اوستہ محمد اور صحبت پور شامل ہیں۔
کوآرڈینٹر سید زاہد شاہ کا کہنا تھا کہ پولیو مہم میں 3 ہزار سے زائد ٹیمیں حصہ لیں رہےہیں، مہم کے دوران 8لاکھ89ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
سید زاہد شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں تین سالوں کے بعد دو پولیوکے کیسز چمن اور ڈیرہ بگٹی سے رپورٹ ہوئے ہیں، پولیو مہم انتہائی اہم ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور بچوں کو اس سے محفوظ رکھا جا سکے۔
کوآرڈینٹر سید زاہد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جبکہ پولیو مہم میں حصہ لینے والی تمام ٹیموں کو سیکورٹی فراہم کی جائے کی جارہی ہے۔
پولیو کیا ہے اور اس کے کیا اثرات ہیں ؟
پولیو وائرس کی وجہ سے ہونے والی ایک موذی بیماری ہے، پولیو زندگی بھر کے لئے معذوری کا باعث بنتی ہے اور جان لیوا بھی ہوسکتی ہے،پولیو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ پولیو وائرس ایک انسان سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتا ہے اور یہ معمولاً منہ کے راستے سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ، پولیو وائرس متعدی پانی یا خوراک کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ جب یہ وائرس جسم میں داخل ہوتا ہے، تو وہ انسانی اعصابی نظام میں پھیل کر فالج کا باعث بننے کی ابتدائی مراحل کو طے کرتا ہے،پولیو کے لئے کوئی علاج دستیاب نہیں ہے مگر اس سے ویکسین کی مدد سے بچا جاسکتا ہے۔



















