ماہرین نے دماغی طبی عارضوں مثلاً ڈیمنشیا، فالج اور دیگر مسائل سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیماریاں عالمی بوجھ بن چکی ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔
بطورِ خاص فالج، ڈیمنشیا، الزائیمر اور ذیابیطس سے ہونے والی رگوں کی تنگی جیسے امراض ہمارے سامنے ایک بحران بن چکے ہیں۔ اگر بروقت اس کی احتیاطی تدابیر نہ کی گئیں تو رقم، توانائی، اور وقت کے صورت میں یہ ایک عالمی مسئلہ بن جائیں گی۔
ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ 1990 میں ان مریضوں کی تعداد 37 کروڑ 50 لاکھ تھی جو اب 44 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس طرح ان اعصابی و دماغی امراض میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب 3 ارب 40 کروڑ افراد کسی نہ کسی طرح ان بیماریوں کے شکار ہیں۔
اس کے علاوہ ماہرین نے کل دس امراض اور عارضوں کی تفصیل دی ہیں جو عالمی امراض کی وجہ بن رہی ہیں۔ ان میں فالج، زچگی کے دوران دماغی سکڑاؤ، مائیگرین، الزائیمر، ڈیمنشیا، مرگی، قبل ازوقت پیدائش سے ہونے والے عوارض، آٹزم، اسپیکٹرم ڈس آرڈر، اور دماغی کینسر شامل ہیں ۔




















