درخشاں تھانےمیں زیرحراست ملزم کی ہلاکت کے معاملے میں سابقہ ایس پی کلفٹن نیئرالحق کو براہ راست قتل کامرکزی ملزم قراردے دیا گیا۔
سربراہ تحقیقاتی کمیٹی نےایڈیشنل آئی جی کراچی کورپورٹ جمع کرادی، سابق ایس پی نیئرالحق سےقتل کی دفعہ302کےتحت تفتیش کی جائےگی۔
درخشاں پولیس کے مبینہ تشدد سے زیرحراست ملزم کی ہلاکت کے معاملے میں معیزنسیم کی موت انسانیت سوز تشدد کی وجہ سے ہونے کا انکشاف ہوا۔
جناح اسپتال کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق متوفی کے جسم پر 13 جگہوں پر بدترین تشدد کیا گیا، میڈیکولیگل افسر نے پہلے صفحہ پر ہی موت کو غیرطبعی قرار دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ معیز نسیم کو مردہ حالت میں جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا، ایس ایچ او درخشاں نے لاش بھیجی، سب انسپکٹر سلیم بروہی لاش لایا، کمر کے نچلے دونوں حصوں پر بھی تشدد کے نشانات ہیں۔



















