پاک ایران تجارتی معاہدے پر امریکہ کا اہم بیان سامنے آگیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران سے تجارتی معاہدے کرنے والے ممالک کو پابندیوں سے متعلق خبردار کردیا ہے۔
اس موقع پر صحافی نے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان سے متعلق سوال کیا کہ پاکستان اور ایران نے کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، اس پر امریکا کا کیا مؤقف ہے؟
سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران سے تجارتی معاہدوں پرغور کرنے والوں کو ممکنہ پابندیوں سے آگاہ رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان کہتا ہے کہ اسے ایران گیس پائپ لائن پر امریکی پابندیوں کی چھوٹ کی ضرورت نہیں، جواب میں ویدانت پٹیل نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے حصول پر خود بات کرسکتی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں نائب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم نے پابندیاں اس لیے لگائیں کہ یہ ادارے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور اس کی ترسیل کے ذرائع تھے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ چین اور بیلاروس میں مقیم ادارے تھے، ہم نے پاکستانی بیلسٹک میزائل پروگرام کیلئے آلات، قابل اطلاق اشیاء فراہمی کا مشاہدہ کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ بڑی تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے نیٹ ورکس کیخلاف کارروائی جاری رکھیں گے، تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی خریداری جہاں بھی ہو ان کیخلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔



















