آج ہم آپکو بتائیں گے کہ غصہ کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق غصے کا احساس شریانوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
جی ہاں، اس تحقیق میں280 افراد کو شامل کرکے کلینیکل ٹرائل کیا گیا، اس ٹرائل میں شامل افراد کو 8 منٹ تک غصے، اداسی، انزائٹی یا لاتعلقی جیسے احساسات پر مبنی واقعات یاد کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ان سے یہ کام کئی بار کرایا گیا اور ہر بار شریانوں کی صحت کی جانچ پڑتال بھی کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اداسی اور انزائٹی سے تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا مگر غصہ ضرور امراض قلب کا شکار بنا سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ غصہ 3 طریقوں سے خون کی شریانوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
غصے سے شریانیں تنگ ہوتی ہیں، خلیات کی خود کو مرمت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق 8 منٹ تک غصے دلانے والے واقعات کو یاد کرنے سے شریانوں پر مرتب اثرات 40 منٹ تک برقرار رہتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ اگرآپ بہت زیادہ غصہ کرنے والے شخص ہیں تو اس عادت سے شریانوں کے افعال دائمی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شریانوں کی صحت متاثر ہونے کے بعد مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ تو نہیں لیا مگر ہمارے خیال میں اس سے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔




















