چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ منظم طریقے سے پاکستان کے مستقبل کو تباہ کیا جارہا ہے، اس ملک میں سب کچھ آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہا ہے۔
سپریم کورٹ میں ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتیوں کے معاملے پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ محکمہ تعلیم میں بیٹھے افسران کیا مکھیاں مار رہے ہیں، یونیورسٹیاں پاکستان کا مستقبل ہیں، منظم طریقے سے پاکستان کے مستقبل کو تباہ کیا جارہا ہے، اس ملک میں سب کچھ آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہا ہے.
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی گالم گلوچ کے اعدادوشمار جاری ہوں تو پاکستان پہلی پوزیشن پر آئے گا، کچھ لوگ سکولوں کو تباہ کر کے کہہ رہے ہیں ہم اسلام کی خدمت کررہے ہیں جب کہ اسکولوں کو تباہ کرنے والے ایسے لوگوں سے حکومتیں پھر مزاکرات بھی کرتی ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جس طرح پی آئی اے میں تباہی ہوئی اسی طرح یونیورسٹیوں میں بھی تباہی ہورہی ہے، پی آئی اے میں بھی ضرورت سے زیادہ عملہ تھا آج حال دیکھ لیں کیا ہوا، سرکاری جامعات کا بھی پی آئی اے والا حال کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بدقسمتی سے ہر غلط کام بیوروکریسی کی ملی بھگت سے ہوتے ہیں، ملک میں کوئی ایک سرکار بھی ٹھیک نہیں چل رہی، لگتا ہے ہم کسی دشمن ملک میں بیٹھے ہوئے ہیں، صرف تعلیم کا شعبہ ٹھیک کر دیں پورا ملک ٹھیک ہو جائے گا۔



















