Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

حکومت نے ہتک عزت پنجاب 2024ء ایوان میں پیش کردیا، صحافیوں کا واک آؤٹ

حکومت نے پنجاب اسمبلی میں ہتک عزت پنجاب 2024ء ایوان میں پیش کردیا جس پرصحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کردیا۔

وزیرپارلیمانی امورمجتبیٰ شجاع الرحمن نے بل ایوان میں پیش کیا۔ بل کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اورسوشل میڈیا پر ہوگا، بل کے تحت پھیلائی جانے والی جھوٹی اورغیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہوسکے گا۔

پیش کیے گئے بل کا یوٹیوب، ٹک ٹاک، ایکس/ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی اطلاق ہوگا، کسی شخص کی ذاتی زندگی اورعوامی مقام کو نقصان پہنچانے کےلئے پھیلائی جانے والی خبروں پر قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔

بل کے تحت ہتک عزت کے کیسز کےلئے خصوصی ٹربیونلز قائم ہوں گے جو چھ ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے، بل کے تحت تیس لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا۔ آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام کی صورت میں ہائی کورٹ کے بنچ کیس سننے کے مجاز ہوں گے، خواتین اور خواجہ سرائوں کےلیے کیس کےلئے قانونی معاونت کےلئے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہوگی۔

ہتک عزت کیسزکےلئےخصوصی ٹریبونلزقائم ہوں گے، خصوصی ٹریبونلز6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا۔

حکومت نے صحافتی تنظیموں کی بل مؤخر کرنے کی تجویز مسترد کردی، صحافتی تنظیموں نے آج وزیر اطلاعات پنجاب سے ملاقات میں بل کچھ روز مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بل بارے صحافتی تنظیمیں اپنی تجاویز دینا چاہتی ہیں۔

اپوزیشن نے بھی ہتک عزت بل کو مستردکردیا، اپوزیشن نے بل بارے دس سے زائد ترامیم پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیں۔

پریس گیلری سے واک آؤٹ کے بعد صحافی رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ بل پرصحافتی تنظیموں سے مشاورت ہوگی۔ ہتک عزت پنجاب 2024 بل جمہوری نہیں۔

صحافی رہنما نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں لائحہ عمل کا علان کریں گے۔ ہتک عزت بل کے نام پرکالے قانون کو قبول نہیں کریں گے۔ جعلی خبروں پر حکومت کو قانون سازی کا حق ہے۔ حکومت کو بل کی آڑ میں صحافیوں پر قدغن کا حق نہیں۔ ہتک عزت بل کے خلاف ہرفورم پراحتجاج کریں گے۔

متعلقہ خبریں