لاہور: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ ہڑتال کلچر کو قرار دے دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ ہڑتال کلچر ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ لاہور میں گزشتہ عرصہ میں 73 دن تک عدالتیں بند کردی گئیں، صوبے کے کیپیٹل میں جنگل کا قانون نافذ کردیا گیا تھا جب کہ عوام کے انصاف تک رسائی کے حقوق کو ختم کردیا گیا تھا۔
ملک شہزاد احمد خان کا کہنا تھا کہ 90 فیصد سے زائد وکلاء پروفیشنل ہیں، پروفیشنل وکلاء نے ہڑتال کلچر کو ختم کرنے میں ہمارا ساتھ دیا جب کہ چیف جٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے ججز نے ہڑتال کلچر کو ختم کرنے میں بہترین کرداد ادا کیا۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ہڑتال کی کال کے باوجود چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے باقی ججز نے مقدمات کی سماعت کی، ہم سب کو اپنی آئینی زمہ داریاں پوری کرنی ہیں جب کہ باعث مسرت ہے کہ کسی بھی ہائی کورٹ بار نے ہڑتال کی کال نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ عدالتوں کا تقدس برقرار رہے گا اور یہ ہڑتال کلچر ختم ہوگا، چیف جسٹس پاکستان بانی پاکستان کے قریبی ساتھی قاضی عیسیٰ کے بیٹے ہیں، قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ آئین و قانون کو مقدم رکھا ہے۔
چیف جسٹس مزید کہتے ہیں کہ ہم کسی کی بی ٹیم نہیں ہیں، ہم صرف اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں، یہ عدالتی نظام کسی طاقتور کے لئے نہیں بنا ہے، یہ عدالتی نظام مظلوم کی دادرسی کے لئے بنایا گیا ہے۔



















